جمہوریت کےدشمن سرگرم ہیں: حقانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ نون سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن حسین حقانی نے کہا ہے کہ چند جمہوریت دشمن عناصر ججز کی بحالی کے مسئلے کو بحران بنا کر جمہوریت کے سفر کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کے ثقلین امام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تیزی کے ساتھ ججوں کو بحال کرنے کا اعلان زیادہ بڑی کامیابی ہے بہ نسبت اس کے کہ ججوں کی بحالی ہو، آزاد عدلیہ قائم ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر یقیناً ایسی سیاسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں وہ یہ شور مچا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اپنے مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’محترمہ کی موت سے پہلے بھی بہت زیادہ ڈیل ڈیل کا ڈھول پیٹا گیا تھا اور اس سے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بدقسمتی سے ایسے عناصر موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو جمہوریت سے محروم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی پر مسلسل دباؤ رکھنا ضروری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بالکل واضح موقف رکھتی ہے کہ عدلیہ کو بحال ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کو بحال ہونا چاہیئے لیکن اس کا طریقۂ کار ایسا ہونا چاہیئے کہ کسی طالع آزما کو پاکستان میں جمہوریت کے سفر کو روکنے کا موقع نہ ملے۔
’ آپ نوٹ کیجیے بہت سے ایسے لوگ جو ماضی میں غیر جمہوری قوتوں کی آواز بنے رہے ہیں آج آپ کو ان کی آوازیں سننے کا موقع مل رہا ہے جبکہ انتخابات کے بعد یہ حضرات خاموش ہو گئے تھے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو چار پانچ الیکشن جیتنے کے بعد بالآخر شکست کھا گئے وہ بھی آج دوبارہ سے اپنے کونے کھدروں سے نکل کر آوازیں لگانا شروع ہو گئے ہیں کہ جمہوریت کی گاڑی رک گئی، جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اتر گئی۔ تو میرا یہ خیال ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کی خوشی کو دیکھ کر جمہوری قوتوں کو سمجھ جانا چاہیئے کہ ان کا مفاد کیا ہے۔‘ حسین حقانی نے بارہ مئی کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ اگر معاملہ طے نہ ہو سکے تو ڈیڈ لائن کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ ’ڈیڈ لائن تو مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے نہیں ہے کہ مسئلے کا اس تاریخ تک حل ہونا ضروری ہے۔ بات چیت چل رہی ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو یہ ان کا سیاسی اور آئینی حق ہے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے کریں لیکن پی پی پی کی خواہش یہی ہے کہ اتحاد برقرار رہے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ججوں کی بحالی ایک اہم نکتہ ہے ’لیکن جمہوریت کی بحالی اور ججوں کی بحالی آپس میں غیر منسلک نہیں کیے جا سکتے۔ کیونکہ اگر ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار میں ایسا سقم رہ جاتا ہے جس سے جمہوریت کی بحالی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو میرا یہ خیال ہے کہ ہم سب کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ کہیں ہم گھٹھلیاں گننے کے چکر میں آم کھانے سے محروم تو نہیں ہو رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں نواز شریف صاحب کا موقف بھی اصولی ہے اور پیپلز پارٹی کا موقف بھی اصولی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ طریقۂ کار کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں دو وکیل الگ الگ دلیلیں دے رہے ہوتے ہیں۔ ’اس کا مطلب ہے کہ قانون کی دو الگ الگ تشریحات ممکن ہوتی ہیں۔ تو اسی طریقہ کے ساتھ یہ ایک تشریح کا فرق ہے۔ اس میں یہ سمجھنا ہے کہ ایک جماعت اصولی موقف اختیار کیے ہوئے ہے اور دوسری جماعت غیر اصولی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں ناجائز بات ہے۔ رہ گیا سیاست میں لچک کا معاملہ تو تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو لوگ سیاست میں لچکدار رویہ اختیار کرتے ہیں وہ تو طوفانوں سے بچ جاتے ہیں لیکن سخت گیر موقف کے نتیجے میں مشکلات زیادہ گہری ہوتی جاتی ہیں۔‘ |
اسی بارے میں ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان شاید دبئی سے کچھ پیچھے چلے گئے: نواز11 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر تعطل برقرار10 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||