’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواز شریف نے بی بی سی اردو سروس کو اتوار کے روز ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ انٹرویو کا تفصیلی متن۔ سوال: کہا یہ جا رہا ہے کہ مذاکرات معطل نہیں ناکام ہو گئے ہیں، آپ کیا کہیں گے؟
جواب: سنیچر کو ہماری کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ ہمارے رفقاء کی میٹنگ ہوئی ہے، لیکن وہ بھی نتیجہ خیز نہیں تھی۔ شاید آج پھر ایک دور چل رہا ہے میٹنگ کا دیکھیے اس میں کیا سامنے آتا ہے۔ ان کی طرف سے حسین حقانی اور رحمان ملک اور ہماری طرف سے خواجہ آصف اور شہباز شریف صاحب مل رہے ہیں۔ سوال: کیا ان کی ملاقات کے بعد آپ کا آج رات پاکستان لوٹنا ملتوی ہو سکتا ہے؟ سوال:کیا امریکیوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی مدد، رہنمائی، ثالثی یا مصالحت کا کام رہو رہا ہے؟ جواب جی نہیں، ہم تو پاکستان کو خودمختار، آزاد ریاست سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے عادی ہیں، خود کرنے والے لوگ ہیں، باہر سے فیصلے نہیں لیتے۔
جواب: نہیں نہیں، امریکی نائب وزیر خارجہ مجھے آج ملے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے وقت مانگا تھا۔ انہیں کی درخواست پر آج ملاقات ہوئی ہے۔ قومی اور دو طرفہ امور پر ہماری بات ہوئی ہے ان کے ساتھ۔ یہ بات چیت کا سلسلہ تو پہلے بھی چلتا رہا ہے۔ اب بات چیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم امریکہ سے پوچھ کر اپنے فیصلے کریں گے۔ وہ بھی میرا مزاج سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ نواز شریف پاکستان کی سیلف رسپکٹ، خود مختاری، توقیر اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، الحمداللہ۔ سوال: موجوودہ صورتحال میں انہوں نے کسی قسم کی کوئی مشاورت، کوئی رہنمائی کوئی صلاح دینے کی کوشش کی؟ جواب: نہیں، اس پر بات چیت ہوئی ہے مشورہ نہیں۔ نہ ہم نے کوئی مشورہ مانگا اور نہ انہوں نے کوئی مشورہ دیا۔ سوال: جس وقت میاں نواز شریف اور آصف زرداری نے ہاتھ ملایا تھا، ان دعاوں تمناؤں کے ساتہ ہاتھ ملایا تھا کہ یہ اتحاد جمہوریت کو پروان چڑھتا دیکھے گا، یہ اتحاد فوج اور انتظامیہ کے خلاف بنا تھا؟ اب کیا صورتحال ہے، یہ اتحاد اسی صورتحال پر قائم ہے یا کچھ مختلف ہو گیا؟ جواب: کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس مقصد کے لیے اتحاد بنا تھا اس مقصد کو ہم حاصل کرتے۔ کسی منفی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے اتحاد نہیں بنایا تھا۔ اتحاد اس دن بنا تھا جب ہم نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔ میں نے اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے۔ وہ ایک بہت اچھی دستاویز تھی اب اس کو عملی جامہ پہنانے کا موقع آیا ہے۔ ہمیں مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اور یقیناً اس کے بعد ایک بڑی پیش رفت ہوئی کہ مشرف نے غیر قانونی طور پر، جس کا انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ میں تین نومبر کو سارے کام غیر قانونی کیے ہیں۔ مشرف نے غیر قانونی طور پر ججوں کو باہر نکال دیا اور ہم نہ جانے کون سے قانون کی تلاش میں ہیں ان کو بحال کرنے کے لیے۔ (قہقہ)۔ لہذا ہمیں غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا ہے، اور غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا چاہیے۔ عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا ہے اس کی رُو سے۔ یہ تبدیلی کا مینڈیٹ ہے۔ وہ ججوں کو بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ مشرف کو صدر نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، یہ مینڈیٹ دیا ہے انہوں نے پیپلز پارٹی کو اورہمیں بھی۔
جواب: تینوں ایک ساتھ منسلک ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک کو چھوڑیں اور دوسرے کو پکڑ لیں۔ اس وقت جو سب سے پہلا کام کرنے والا ہے وہ لوگوں کی بیروزگاری، مہنگائی، غربت کے خاتمے کی ہے، بجلی کا بہت بڑا بحران ہے جو ان چند دنوں کا نہیں ہے۔ یہ پچھلے آٹھ سالوں کا پیدا کردہ ہے، لیکن اس کا بہت قریبی تعلق ہے معاشرے کے انصاف سے۔ معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا، کہاں سے روٹی ملے گی، کہاں سے غربت، بیروزگاری ختم ہو گی۔ کہاں سے گُڈگورننس آئے گی۔ میرٹ کی حکمرانی کہاں سے آئے گی۔ ان سب چیزوں کے لیے آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے۔ آزاد عدلیہ کے بغیر خود پاکستان محفوظ نہیں۔ اس کے بغیر یہ پٹتا رہے گا آمریت پسند جرنیلوں کے ہاتھوں۔ لہذا اب یہ عدلیے کھڑی ہوئی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم کسی آمر کے آگے نہیں جھکیں گے۔ اب اس عدلیہ کا احترام کرتے ہوئے ہمیں اسے بحال کرنا چاہیے۔ سوال: کیا عدلیے کا معاملہ کچھ مؤخر ہو سکتا ہے، اور اگلا کہہ رہا ہے کہ قرارداد نہیں پیکج کے ذریعے کر لو اس میں کوئی قباحت ہے؟ جواب: کچھ کام ہوتے ہیں پہلے دس دن میں کرنے کے، کچھ کام ہوتے ہیں پہلے تیس دن میں کرنے کے۔ کسی کام کے لیے مواقع ہمیشہ نہیں رہتے(ونڈو آف اوپرچیونٹی)۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پوری قوم کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد قوم کا باقی ایجنڈا پورے اطمینان کے ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔ باقی معاملات کو پہلے آگے بڑھانے سے قوم کےح اندر تشنگی باقی رہے گی۔ بے چینی رہے گی، یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔ سوال: یہ اتحاد باقی رہے گا اڑتالیس گھنٹوں کے بعد؟
جواب: مجھے نہیں معلوم کس راستے کی بات ہو رہی ہے۔ سوال: کل شیر رحمان نے کہا کہ جس طریقے سے میاں نواز شریف کہہ رہے اس طریقے سے ججوں کو بحال کرنے سے آئینی بحران پیدا ہو جائے گا اور پولیس کے ذریعے یہ کام نہیں کروایا جا سکتا؟ جواب: شفیع نقی بھائی صاحب، ہمارا پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک معاہدہ ہے۔ اعلان مری موجود ہے جو بھوربن میں دستخط ہوا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے وہ اور ہم مِل کر قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی کے پابند ہیں۔ تیس دنوں کے اندر اندر پابند ہیں، اور اسی پوزیشن پر کرنے کے پابند ہیں جو دو نومبر دو ہزار سات کو موجود تھی۔ اس معاہدے کی بھی تو ایک اہمیت ہے۔ اس معاہدے میں کسی پیکج کا ذکر نہیں ہے۔۔ اس میں صاف ستھرا، سمپل ججوں کی بحالی کا ذکر ہے اور قرارداد کے ذریعے ذکر ہے۔ قوم کے سامنے میں نے اور آصف زرداری صاحب نے دستخط کیے۔ قوم کے سامنے ہمارا یہ عہد ہے۔ سوال: ناقدین یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کا اصل ایجنڈا قلیل المدت ہے۔ آپ کی سیاست ایک سال کی ہے تاکہ یہ حکومت ناکام ہو، آپ دور کھڑے ہو کر کہہ سکیں کے دیکھا ہم نے تو کہا تھا یعنی آپ تو اگلے انتخابات کے لیے کام کر رہے ہیں؟ جواب:یہ تو پھر بدنیتی ہے، اس بد نیتی کو تو ہم نہیں پسند کرتے۔ ہم تو انتخابات اور اقتدار کی نہیں پاکستان کی بات کر رہے ہیں۔ ہم تو زرداری صاحب کے اصرار پر ان کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئے تھے۔ ہم نے تو یہ کڑوی گولی اسی لیے کھائی کہ جج بحال ہو جائیں گے۔ سوال: کیا میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ مایوس دکھائی دے رہے ہیں؟ جواب: نہیں انسان کبھی کبھی کسی موڈ میں ہوتا ہے کبھی کسی موڈ میں۔ میں ہاتھ پاؤں خوب چلاؤں اور بہت کچھ اور کروں پھر تو آپ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن آپ یہ بتایے کہ میرے مؤقف میں کوئی فرق دیکھ رہے ہیں آپ۔ سوال: میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ آپ سے گفتگو کے بعد مجھے اگلے چوبیس گھنٹے کڑے دکھائی دے رہے ہیں؟
سوال: اگر اتحاد ٹوٹ گیا تو کیا ہوگا؟ سوال: اس ساری جدوجہد کا حاصل کیا ہوا؟ بینظیر بھٹو کی جان گئی، مشرف کو لوگوں نے کھری کھری سنائیں اور اتنے سب کچھ کے بعد زاد راہ پھر لٹ رہا ہے؟ جواب:یہی تو دکھ ہے۔ آپ کہہ رہے تھے کہ میرے چہرے پر اداسی ہے۔ وہ اداسی شاید اسی بات کی ہے۔ سوال: پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو رہنا چاہیے؟ کیا رائے ہے؟ جواب: میری رائے سے پہلے آپ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا نتیجہ دیکھ لیں۔ قوم نے تو ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور بہت ہی مضبوط فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے بھی کہا تھا کہ قوم جب نہیں چاہے گی تو نہیں رہوں گا۔ تو قوم نے جب فیصلہ دے دیا تو کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں شاید دبئی سے کچھ پیچھے چلے گئے: نواز11 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر تعطل برقرار10 May, 2008 | پاکستان حکمراں اتحاد کی ڈیڈلائن کی سیاست10 May, 2008 | پاکستان لندن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی09 May, 2008 | پاکستان اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف01 May, 2008 | پاکستان چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘01 May, 2008 | پاکستان ’حقائق چھپانے کی کوشش‘30 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||