BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 May, 2008, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کی بحالی: بحران کا خدشہ‘

وزیر اطلاعات شیری رحمٰن
’اگر پولیس نے جج بحال کیے، جس طرح نواز شریف تجویز کرتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا‘
پاکستان کی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف جس طرح ججوں کی بحالی چاہتے ہیں اس طرح ججوں کی بحالی سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔

سنیچر کی شام کو موبائیل ٹیکسٹ کے ذریعے بھیجے گئے اس پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر پولیس نے جج بحال کیے، جس طرح نواز شریف تجویز کرتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوجائے گا‘۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ججوں کی اس طرح بحالی پر سپریم کورٹ میں پہلے سے موجود جج پرانے ججوں کے خلاف فوری طور پر حکم جاری کریں گے۔

’ہم پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے تمام ججوں کو اکموڈیٹ یعنی کھپا سکتے ہیں،۔

شیری رحمٰن نے مزید کہا ہے کہ جب ملک میں پہلے ہی تنازعات ہوں، اقتصادی اور سماجی دباؤ موجود ہوں تو ایسے میں غیر ضروری تصادم سے گریز کرنا چاہیے اور ذمہ داری کا ثبوت دیا چاہیے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام لے کر ججوں کی بحالی کے بارے میں کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت جاری ہوا جب لندن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے درمیاں ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ کن بات چیت ہو رہی ہے۔

یہ موبائیل ٹیکسٹ شیری رحمٰن کے نام سے ان کے تعلقات عامہ کے افسر یا ’پی آر او، فائق چاچڑ نے جاری کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے یہ بات کہاں کہی ہے تو فائق چاچڑ نے بتایا کہ یہ میڈم کا بیان ہے اور ٹیکسٹ کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شیری رحمٰن اس سے پہلے بھی بیان یا حکومتی موقف یا اس کی کوئی وضاحت کے لیے موبائیل ٹیکسٹ کا ذریعہ استعمال کرتی رہی ہیں۔

وکلاءہم نہیں مانتے
ججوں کی مجوزہ بحالی میں ایک نئی رکاوٹ
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
منیر اے ملکججوں کی بحالی
حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
ججز کالونی میںججز کالونی میں
چوتھے روز بھی جشن جیسا سماں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد