اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | وکلاء کا مطالبہ ہے کہ تمام معزول جج بحال کیے جائیں |
پاکستان کے کئی علاقوں میں آٹھ مئی سے جاری وکلاء کی مکمل ہڑتال کے بعد آج یعنی بارہ مئی کو پورے ملک میں یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں وکلاء اور اے پی ڈی ایم کی جانب سے احتجاجی اجلاس بھی بلائے جا رہے ہیں۔ ملتان میں گزشتہ رات وکلاء، سیاسی کارکنوں، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سانحہ بارہ مئی کے ایک سال پورا ہونے پر ریلی نکالی۔ ریلی میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے خلاف نعرہ بازی بھی کی گئی۔ وکلاء نے ’آئین سے غداری ہے، زرداری زرداری ہے‘ کے نعرے لگائے۔ یہ ریلی گزشتہ سال بارہ مئی کو کراچی میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی آمد کے موقع پر چالیس سے زائد افراد کی ہلاکت کی یاد میں نکالی گئی تھی۔  | | | پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ججز کی بحالی پر کو مشترکہ لائحہ عمل تیار نہیں کر سکیں |
ریلی کے شرکاء نے اتحادی حکومت کی جانب سے دوسری ڈیڈلائن پوری ہونے پر بھی معزول ججوں کے بحال نہ ہونے پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان این آر او کے تحفوں کے بعد اپنے مقاصد سے ہٹ چکے ہیں۔ اس دوران امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ وجہ بتاتے ہوئے ملتان ہائیکورٹ بار کے صدر محمود اشرف نے کہ یہ ہمارے لیے بہت شرم کی بات ہے کہ ہمارے اس اندرونی معاملے میں بھی ’رچرڈ باؤچر آ کر ہماری دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات کرے اور ان کو ہدایات دے۔‘ ایک وکیل سمیرا محمود نے کہا ڈیڈلائن اب وکلاء کی تحریک دے گی کہ سیاسی جماعتوں کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیئے۔ |