اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | حال میں آصف زرداری نے ایوان صدر کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے |
آئینی پیکیج کی منظوری اور ججوں کی بحالی سمیت مختلف معاملات پر غور کے لیے حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اہم اجلاس پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صدارت میں جاری ہے۔ سنیچر کو زرداری ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین، وفاقی وزراء، سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ اور چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کے وزراء اجلاس میں شریک ہیں۔ ان کے علاوہ اس اجلاس میں مخدوم امین فہیم اور اعتزاز احسن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری اور امین فہیم کے درمیان وزیراعظم کے معاملے پر جبکہ آصف علی زرداری اور اعتزاز احسن کے درمیان ججوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافات کے بعد غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ وہ پارٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔ اعتزاز احسن کی پارٹی اجلاس میں شرکت کی وجہ سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی فیصل آباد روانگی میں بھی تاخیر ہوئی ہے۔ پروگرام کے مطابق انہیں بارہ بجے روانہ ہونا تھا لیکن اب تین بجے روانہ ہوا ہے۔ وکلاء نمائندوں کا کہنا ہے کہ اعتزاز احسن قافلے میں جلد شامل ہونے والے ہیں۔ آصف علی زرداری اور صدر پرویز مشرف کے درمیاں شدید اختلافات پیدا ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کا یہ پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا ہے جس میں وہ آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ اجلاس میں صدر پرویز مشرف کے مستقبل، باسٹھ نکاتی آئینی پیکیج کی منظوری، بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات، بجٹ میں غریب عوام اور تنخواہ دار طبقوں کو مراعات دینے کے بارے میں بھی غور ہوگا اور پارٹی قیادت اپنے ساتھیوں کو اعتماد میں لے گی۔ اجلاس میں جانے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہم عوامی جمہوریت چاہتے ہیں اور جرنیلی جمہوریت کسی طور پر بھی قبول نہیں۔ ہمیں با اختیار اقتدار چاہیے محض دکھاوے کا نہیں۔‘  | جرنیلی جمہوریت قبول نہیں  اجلاس میں جانے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ہم عوامی جمہوریت چاہتے ہیں اور جرنیلی جمہوریت کسی طور پر بھی قبول نہیں۔ ہمیں با اختیار اقتدار چاہیے محض دکھاوے کا نہیں۔‘  |
بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے اور آئینی پیکیج میں صدر کے اختیارات کم کرنے پر صدر پرویز مشرف کو سخت اعتراضات ہیں اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ان سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ ان اختلافات میں مزید شدت اس وقت پیدا ہوئی جب صدر پرویز مشرف سے منسوب ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف آصف علی زرداری پر بھروسہ نہیں کرتے۔ جس کے بعد آصف علی زرداری نے بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹرویو میں کہا کہ صدر پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے ان پر سخت دباؤ ہے اور پاکستانی عوام آٹے اور بجلی سے زیادہ صدر پرویز مشرف سے نجات چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جو باسٹھ نکاتی آئینی پیکیج تیار کیا ہے اس میں جہاں صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ ججوں کی بحالی شامل ہے وہاں فوجی سربراہان، ججوں اور گورنرز سمیت تمام آئینی عہدوں پر تقرریوں کے اختیارات صدر سے وزیراعظم کو منتقل کرنے کے نکات بھی شامل ہیں۔ آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ان کا تجویز کردہ آئینی پیکیج منظور ہونے کے بعد ملک میں انیس سو تہتر کے آئین کی روح کے حقیقی جمہوریت قائم ہوگی۔ جس میں ان کے مطابق پارلیمان ایک بالادست ادارہ ہوگا، عدلیہ آزاد ہوگی اور الیکشن کمیشن خود مختار ہوگا۔
|