BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 May, 2008, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز، شہباز اہلیت، فیصلہ محفوظ

نواز
نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے
لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی قبول کیے جانے کے خلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جمعہ کے روز جسٹس اکرم قریشی اور جسٹس حافظ طارق نسیم پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی قبول کرنے کے خلاف اپیلیں سنیں۔

ٹریبونل نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ اپیلیں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف مختلف انتخابی حلقوں سے دائر کی گئی ہیں۔

سیالکوٹ کے حلقے پی پی 124 سے ذوالفقار علی گھمن، بھکر سے پی پی 48 سے سید خرم شاہ، لاہور کے پی پی 141 سے اظہر خان لودھی، لاہور کے ہی پی پی 154 سے سید خرم علی شاہ نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگیوں کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

دریں اثناء قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقے 123 سے نور الٰہی اور راولپنڈی کے حلقے باون سے ناصر راجہ نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔

جمعہ کو ہونے والی کارروائی میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے۔ تاہم ممتاز قانون دان ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے سول سوسائٹی کی طرف سے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی حمایت میں دلایل دیے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی کی سزا معاف کر دیتے ہیں تو اس شخص کا جرم بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ صدر نے ان کی سزا معاف کردی ہے اس لیے نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل ہیں اور ان کو کسی صورت بھی نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے نواز شریف کے خلاف اپیلوں پر اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیلیں مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد کی گئی ہیں اس لیے یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔

ٹریبونل کے سامنے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ندیم الدین نےاپنے دلائل میں کہا کہ ان کے سامنے اس نوٹیفیکیشن کی کاپی موجود نہیں ہے جس سے وہ بتا سکیں کہ آیا نواز شریف کی سزا جزوی طور پر معاف کی گئی تھی یا مکمل طور پر۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانا نے صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی کی سزا معاف کر سکتے ہیں۔

الیکشن ٹریبونل کی سماعت پر سابق صدر رفیق تارڑ، سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خلیل الرحمٰن خان، بشریٰ اعتزاز، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود، مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اور صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔

ایک بڑی تعداد مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی بھی موجود تھی جنہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے حق میں نعرے بازی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد