BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف کے کاغذات منظور

نواز شریف نے راولپنڈی کےحلقہ این اے باون کے علاوہ لاہور کے حلقہ ایک سو تئیس سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں
لاہورمیں ایک ریٹرنگ افسر نے ضمنی انتخابات کےلیے مسلم لیگ ن کےسربراہ میاں نواز شریف کو اہل قرار دیدیا ہے اور قومی اسمبلی حلقہ ایک سو تئیس سے ان کا کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

ریٹرنگ افسر بدرالدین چودھری نے ان کے کاغذات منظور کیے جانے کا اعلان کیا تو کمرہ عدالت اور اس کے سامنے موجود مسلم لیگی کارکنوں اور وکلاءنے نواز شریف زندہ باد اور وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف عام انتخابات میں پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔

اس وقت ریٹرنگ افسر نے نااہل قرار دیدیا تھا اور انہوں نے اس کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اس لیے اپیل نہیں کی تھی کہ وہاں پی سی او کےحلف یافتہ جج بیٹھے ہیں۔

ضمنی انتخابات کے لیے انہوں نے راولپنڈی کےحلقہ این اے باون کے علاوہ لاہور کے حلقہ ایک سو تئیس سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ لاہورمیں بدھ کوان کے مخالف امیدوار میاں اخلاق گڈو اور آزاد امیدوار نورالہی نے ریٹرنگ افسرکے روبرو ان کی اہلیت پر اعتراضات داخل کیے۔ جبکہ میاں نواز شریف کے وکلاء نے ان اعتراضات کو مستردکیاتھا۔

میاں اخلاق گڈو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کےطیارہ سازش کیس میں سزایافتہ ہونے کا حوالہ دیا اورکہا کہ اسی بنیاد پر عام انتخابات میں ان کے کاغذات مسترد کیے گئے اور چونکہ ضمنی انتخابات انہی عام انتخابات کا تسلسل ہے اس لیے انہیں ان انتخابات میں بھی نااہل قرار دیا جائے۔

میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض بھی لگایا گیا کہ انہوں نے ان کے ہمراہ اپنے اثاثہ جات کی تفصیل نہیں لگائی۔

ریٹرنگ افسر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ جمعرات کو اسی ریٹرنگ افسر نے ایک دوسرے مسلم لیگی امیدوار حمزہ شہباز کے کاغذات کی سماعت جاری رکھی۔

دوپہر کو ریٹرنگ افسر نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کا فیصلہ سنادیا۔

اسی حلقے سے نواز شریف کےداماد کیپٹن صفدرمسلم لیگ نون کے رہنمازعیم قادری، مجتبی شجاع الرحمان، پیپلز پارٹی عزیزالرحمان چن، مسلم لیگ قاف کے میاں اخلاق گڈواورنورالہی کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کیے جاچکے ہیں۔

نواز شریف کے کاغذات منظور کیے جانے کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ یہ درخواستیں چوبیس مئی کو جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں تشکیل دیئے گئے ٹربیونل اکتیس مئی تک ان درخواستوں پر فیصلے سنائیں گے۔

مسلم لیگ نون کے لائرز ونگ کے سربراہ نصیر احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کے کاغذات کی منظوری کے خلاف کوئی اپیل کی گئی تو ہائی کورٹ میں بھی اس کا دفاع کیاجائےگا۔ جب ان سے کہا گیا کہ نواز شریف نے پی سی او ججوں کے روبرو پچھلی بار پیش ہونے سے انکار کردیا تھا کیا اس بارپالیسی تبدیل ہوگئی ہے، نصیر بھٹہ نے کہا کہ مسلم لیگ نے خود سے پی سی او کے ججوں کے سامنے جانے سے انکار کیاتھا تاہم اگر مخالف فریق ان کے خلاف درخواست دے گا تو پھروہ اپنے کیس کے دفاع کرنے ضرور جائیں گے۔

قومی اور صوبائی اسمبلی کی اڑتیس نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں سے قومی اسمبلی کی آٹھ اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستوں کے لیے کاغذات کی جانچ پڑتال کا مرحلہ جاری ہے ۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی ایک سو چون سے منظور کر لیئے گئے ہیں۔

شہباز شریف نے بھی پنجاب کی پانچ نشتسوں سے کاغذات جمع کرائے ہیں جن میں دو لاہور اور ایک ایک راولپنڈی، سیالکوٹ اور بھکر میں جمع کرائے گئے ہیں اور انہیں بھی اعتراضات کاسامنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد