BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 May, 2008, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اپیل نہیں کی تھی لہذا نواز شریف نااہل ہیں‘

نواز شریف
’نواز شریف نے نااہلی کی سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی‘
لاہور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن ٹربیونلز نے ضمنی انتخابات کے لیے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر شدہ درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونلز نے نواز شریف کے خلاف درخواست پر اٹھائیس مئی جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف کے خلاف درخواستوں پر تیس مئی کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

نواز شریف کے خلاف قومی اسمبلی کے حلقہ باون سے ایک امیدوار ناصر راجہ نے درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں نجم الزمان اور جسٹس طارق شمیم پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے ناصر راجہ کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد نواز شریف کو اٹھائیس مئی کے لیے نوٹس جاری کیے۔

ٹربیونل کے روبرو درخواست گزار ناصر راجہ کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ نواز شریف پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور ان سزاؤں میں نااہلی کی سزا بھی شامل ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف نے ان سزاؤں کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی اس لیے وہ اب انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ عدالت انہیں کسی بھی عوامی یا سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے چکی ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرم قریشی کی سربراہی میں قائم الیکشن ٹربیونل نے لاہور کی صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے شہباز شریف کے کاغذات کی منظوری کے خلاف درخواستوں پر ان کو تیس مئی کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

 نواز شریف پاکستانی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور ان سزاؤں میں نااہلی کی سزا بھی شامل ہے۔ نواز شریف نے ان سزاؤں کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی اس لیے وہ اب انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ عدالت انہیں کسی بھی عوامی یا سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے چکی ہے۔
وکیلِ استغاثہ

شہباز شریف نے لاہور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ایک سو اکتالیس اور ایک سو چون سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ لاہور کے صوبائی حلقہ ایک سو اکتالیس سے اظہر خان جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چون سے سید نعیم شہزاد نے شہباز شریف کے کاعذات نامزدگی کے خلاف ٹریبونل سے رجوع کیا ہے۔

درخواست گزاروں کی طرف سے ان کی وکیل قاضی محی الدین نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف نے سنہ دو ہزار دو اور سنہ دو ہزار سات میں ہونے والے انتخابات کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے لیکن ان کی کاغذات مسترد ہوگئے تھے۔ وکیل نے مزید کہا کہ شہباز شریف ناہندہ ہیں اور انہوں نے جلاوطنی کے معاہدے کے حوالے غلط بیانی کی ہے اس لیے وہ آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔

ہائی کورٹ کے ایک دوسرے الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف پنجاب اسمبلی کے لیے بھکر کے صوبائی حلقہ اڑتالیس اور سیالکوٹ کے صوبائی حلقہ ایک سو چوبیس سے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کردی اور درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے دستاویزات ٹربیونل کے روبرو پیش کریں۔

ٹربیونل نے شہباز شریف کے راولپنڈی کے صوبائی حلقہ دس سے کاغذات نامزدگی مسترد کرانے کے لیے درخواست نمٹادی۔ یہ درخواست ملک محبوب الہیْ نے دائر کی تھی۔ سماعت کےدوران درخواست گزار کے وکیل نے درخواست پر زور نہیں دیا جس کی بنا پر ٹربیونل نے درخواست نمٹا دی۔

دریں اثناء نواز شریف کے وکیل اشتر اوصاف علی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے نواز شریف کے مدمقابل مسلم لیگ قاف کے امیدوار اخلاق گڈو نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ انہوں نے دعویْ کیا ہے کہ اخلاق گڈو نواز شریف کے خلاف وہ درخواست بھی واپس لے رہے ہیں جس میں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اخلاق گڈو نے قومی اسمبلی حلقہ کے ایک سو تئیس سے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کو لاہورہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے سامنے چیلنج کر رکھا ہے اور ٹربیونل کے روبرو ان کی درخواست کی سماعت ستائیس مئی کو ہوگی۔

ادھرمسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ شریف برادران کے کاغذات نامزدگی کے خلاف درخواستوں کی ہائی کورٹ کے روبرو پیروی کرنے یا نہ کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم ان کے بقول مسلم لیگ نون کے وکلاء کا یہ اصرار ہے کہ ٹربیونل کے سامنے اپنے دفاع کے موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد