کوئی ڈیل نہیں، ملک سے آمریت کا خاتمہ کرنے آیا ہوں: نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سات برس سے زیادہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد اتوار کی شام پاکستان پہنچ گئے۔ نواز شریف نےاس سے قبل دس ستمبر کو بھی وطن لوٹنے کی کوشش کی تھی لیکن اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے انہیں سعودی عرب بھجوادیا گیا تھا۔ نواز شریف لاہور ائرپورٹ پر آمد کے تھوڑی دیر بعد مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے شہر کی طرف روانہ ہو گئے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ جلوس تین گھنٹوں میں محض پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق نوازشریف اور شہباز شریف ایک ٹرک پر سوار ہو گئے ہیں جہاں سے وہ سڑک کی دونوں جانب کھڑے لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ ان کا استقبال کرنے والوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ اس سے قبل لاہور پہنچنے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ملک سے آمریت کا خاتمہ کرنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں جمہوریت چاہیے، اور کچھ نہیں‘۔ نواز شریف نے کہا کہ’یہ میری زندگی کا بہترین لمحہ ہے۔ میں ان لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا ساتھ دیا‘۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ انیس سوتہتر کے آئین کی بحالی کے لیے کام کریں گے اور ملک کے سیاسی عمل میں پورا حصہ لیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ انتقام کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ صدر مشرف کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، نواز شریف نے کہا کہ’ہمارا ایجنڈا ان سے مختلف ہے‘۔
انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ اے پی ڈی ایم میں شامل دوسری جماعتوں سے صلاح مشورہ کے بعد ہی کیا جائے گا۔ نواز شریف کے ہمراہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز، داماد کیپٹن صفدر، سمدھی اسحاق ڈار اور چند دیگر اہلخانہ بھی پاکستان آئے ہیں۔سعودی ائرلائن طیارے کے ذریعے لاہور ائرپورٹ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد، پہلے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اور پھر خود نواز شریف لاؤنج سے باہر آئے۔ دونوں رہنماؤں کے باہر آتے ہی مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے انہیں کاندھوں پر اٹھا لیا اور زبردست نعرہ بازی کی۔اس موقع پر نواز شریف نے کارکنوں سے مختصر خطاب بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سودے کے لیے واپس نہیں آئے بلکہ ملک و قوم کے لیے وطن واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے ڈیل کرنا ہوتی تو اس وقت کر لیتے جب ان کے والد کا انتقال ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے والد کی تدفین کے لیے بھی وطن نہیں آ سکے تھے۔ نواز شریف کی پاکستان آمد سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور سینکروں کارکنان رکاوٹیں عبور کر کے ائرپورٹ پہنچ گئے تھے۔ یہ کارکنان ائرپورٹ پر نواز شریف کے حق میں اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔پولیس اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان میں ائرپورٹ پر دھکم پیل بھی ہوئی ہے اور پولیس نے کارکنوں پر ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا ہے۔ اس سے قبل میاں نواز شریف کے ترجمان نے دعوٰی کیا تھا کہ حکومت شریف خاندان کے استقبال کے لیے جانے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ ترجمان زعیم قادری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مسلم لیگ(ن) کے ہزاروں کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے اور صرف لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے سات سو کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ لاہور میں نواز شریف کے استقبال کے لیے بھر پور تیاریاں کی گئی ہیں۔مسلم لیگی پروگرام کے مطابق انہیں ایک جلوس کی شکل میں ہوائی اڈے سے داتا دربار تک لے جایا جا ئےگا۔ استقبالیہ جلوس رینجرز ہیڈ کواٹر، دھرم پورہ، ریلوے سٹیشن سے ہوتا ہوا داتا دربار جائے گا۔ داتا دربار پرحاضری کے بعد نواز شریف اور ان کے اہلخانہ رائے ونڈ فارم پر اپنی رہائش گاہ پر جائیں گے۔ نواز شریف کے قافلے نے داتا دربار جانے سے پہلے گوالمنڈی سے گزرنا ہے جہاں ان کا پرانا آبائی گھر ہے۔گوالمنڈی کے بعض علاقوں میں جشن کا سا سماں ہے اور مسلم لیگی کارکنوں نے علاقے کو مسلم لیگی جھنڈوں،خیر مقدمی پوسٹروں، بینروں سے سجا دیا ہے۔ میاں نواز شریف، شہباز شریف، کلثوم نواز اور حمزہ شہباز کے لیے لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے گئے ہیں اور پیر کو یہ کاغذات جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کےمطابق کاغذات جمع کرانے کےموقع پر امیدوار کی خود موجودگی لازمی ہے۔ توقع ہے کہ کل نواز شریف اور ان کے اہلخانہ اپنے کاغذات جمع کرانے کے لیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ میاں نواز شریف مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ اور اپوزیشن کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے اور انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارےمیں فیصلہ کیا جائے گا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں اور خود مسلم لیگی رہنماؤں کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے پاکستان واپسی کے لیے نواز شریف کو اپنا خصوصی طیارہ دیا ہے اور ایک دوسری خصوصی پرواز سے ان کے لیے ایک بلٹ پروف گاڑی لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچا دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ گاڑی نواز شریف کو شاہ عبداللہ نے تحفہ میں دی ہے۔ ادھر نوازشریف کے ماڈل ٹاؤن میں ان کےاس گھر کو خالی کروالیا گیاہے جو ان کی جلاوطنی کے بعد حکومت پنجاب نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔اس عمارت میں بے سہارا بوڑھے لوگوں اور خواتین کو رکھا گیا تھا اور ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ قائم تھا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گھر شریف خاندان کو واپس کیا جارہا ہے یا نہیں۔حمزہ شہباز نے اس گھر کے خالی کرائے جانے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ شریف خاندان کی واپسی سے بڑا دھچکا ان کے بدترین سیاسی حریف مسلم لیگ (ق) کو پہنچا ہے اور پنجاب کے دیہی علاقوں کے مضبوط امیدواروں کی اولین ترجیح اب مسلم لیگ قاف کا ٹکٹ حاصل کرنا نہیں رہےگا۔ پیپلز پارٹی کو اس حد تک فائدہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ مسلم لیگ (ن) اور (ق) میں تقسیم ہوجائیں گے۔ |
اسی بارے میں مشرف سعودی دورے سے واپس21 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان نواز کی واپسی آئندہ چند دن میں:ہاشمی23 November, 2007 | پاکستان APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں23 November, 2007 | پاکستان ’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘15 October, 2007 | پاکستان نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||