BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز شریف کی اہلیت پر تنازع

نواز شریف
لاہور میں نواز شریف کے مخالف امیدوار نے اپنے کاغذات واپس لے لیے
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی ضمنی انتخابات کے لیے اہلیت کے معاملے پر الیکشن ٹریبونل کے دو ججوں میں عدم اتفاق کے بعد معاملہ مزید کارروائی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو بھجوادیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف راولپنڈی کے حلقہ باون سے دستبرداری کا اعلان کرچکے ہیں اورانہوں نے ریٹرنگ افسر کےروبرو دستبرداری کا حلف نامہ بھی داخل کرا دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن ٹریبونل میں ان کی اہلیت کے خلاف دائر کردہ اپیل کی بدھ کو سماعت ہوئی۔ نواز شریف کی جانب سے ایک وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ ضمنی انتخاب کے لیے این اے باون سے دستبردار ہوچکے ہیں۔

اپیل کنندہ محمد ناصر راجہ کے وکیل ڈاکٹر ایم محی الدین قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے دستبرداری کے فیصلے کے باوجود ان کی اہلیت کے کیس کی سماعت جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے نواز شریف کے خلاف تحریری مواد عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ چونکہ وہ طیارہ سازش کیس کے سزایافتہ ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف اپیل بھی نہیں کی اس لیے انہیں ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

الیکشن ٹریبونل کے ایک جج جسٹس میاں نجم الزماں نے اس بنیاد پر نواز شریف کی اہلیت کے خلاف اپیل کو غیر موثر قرار دیا کہ وہ راولپنڈی کے حلقہ باون سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے چکے ہیں لیکن ٹریبونل کے دوسرے جج جسٹس طارق شمیم نے ان کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا کہا کہ الیکشن ٹریبونل کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ امیدوار کے دستبرداری کے اعلان کے باوجود اس کی اہلیت کا فیصلہ کرے۔ جسٹس طارق شمیم نے اپنےاختلافی نوٹ میں نواز شریف کو ضمنی انتخاب کے لیے نااہل قرار دیدیا۔

اپیل کنندہ ناصر راجہ کے وکیل ڈاکٹر ایم محی الدین قاضی نے بتایا کہ دونوں ججوں کے عدم اتفاق کے بعد یہ کیس چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا گیا ہے جو خود بھی اس کیس کا فیصلہ کرسکتے ہیں اور مزید سماعت کے لیے ایک تیسرے جج کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔

فیصلہ کیسے ہو گا
 دونوں ججوں کے عدم اتفاق کے بعد یہ کیس چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا گیا ہے جو خود بھی اس کیس کا فیصلہ کرسکتے ہیں اور مزید سماعت کے لیے ایک تیسرے جج کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے
محی الدین قاضی

واضح رہے کہ یہ وہی دو رکنی بنچ ہے جس نے گذشتہ روز ایک شہری شاہد اورکزئی کی نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ادھر لاہور کے حلقہ این اے ایک سوتئیس کی انتخابی عذرداری کی سماعت کرنے والے ایک دوسرے الیکشن ٹریبونل نے نواز شریف کی اہلیت کے خلاف ایک شہری نورالہی کی اپیل سماعت کے لیےمنظور کرتے ہوئے نواز شریف کو تیس مئی کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حلقے سے منگل کو مسلم لیگ قاف کے امیدوار میاں اخلاق گڈو نواز شریف کےحق میں دستبردار ہوگئے تھے اور انہوں نے نواز شریف کی اہلیت کے خلاف اپنی اپیل بھی واپس لے لی تھی۔

آزاد امیدوار نورالہی نے اسے دونوں کے درمیان ساز باز قرار دیتے ہوئے خود کو فریق بنانے کی درخواست دی تھی جس پر عدالت نے کہا تھا کہ وہ الگ سے اپیل دائر کریں۔

بدھ کو نورالہی نے عدالت کے اسی سابقہ حکم کو بنیاد بنا کر نئی اپیل دائر کردی جس پر عدالت نے نواز شریف کو تیس مئی کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تیس مئی انتخابی عذرداریاں سننے کی آخری تاریخ ہے جس کے بعد دوجون تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے جس کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد