BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 May, 2008, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاف کے امیدوار نواز کے حق میں

نواز شریف(فائل فوٹو)
نواز شریف کے مخالف مسلم لیگ قاف کے امیدوار میاں اخلاق احمد گڈو نے نواز شریف کے خلاف درخواست واپس لے لی ہے
ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے خلاف دائر کردہ اپیل نمٹا دی ہے۔ان کے وکیل اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ این اے ایک سو تئیس سے ان کی اہلیت کے خلاف اب کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔

میاں نواز شریف کے مخالف مسلم لیگ قاف کے امیدوار میاں اخلاق احمد گڈو منگل کو عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ ایک دوسرے امیدوار نور الہی کے وکیل نے ان کی درخواست واپسی کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مفاد عامہ کی درخواست ہے جو وہ واپس نہیں لے سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میاں اخلاق گڈو ایک معاہدے کے بعد دستبردار ہوئے ہیں۔ میاں اخلاق گڈو نے کہا کہ وہ حلف دینے کو تیار ہیں کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

میاں اخلاق گڈو نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نواز شریف کے خلاف سو بار بھی الیکشن لڑیں توجیت نہیں سکتے، نواز شریف عدلیہ کی بحالی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس بنیاد پر انہوں نے ان کے خلاف الیکشن نہ لڑنے اور اپنے اعتراضات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

 انتخابی ٹریبونل کےروبرو درخواست دینے کا وقت گزر چکا ہے اور قانون کے مطابق محض ووٹر کسی امیدوار کی اہلیت کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر اب نواز شریف کے خلاف حلقہ این اے ایک سو تئیس سے کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔

آزاد امیدوار نورالہی نے جسٹس اکرم قریشی اور حافظ طارق نسیم پر مشتمل ٹریبونل کو درخواست دی کہ اب انہیں فریق بنا لیاجائے جس پر الیکشن ٹریبونل نے کہا کہ اس کے لیے انہیں الگ سے درخواست دینا ہوگی۔

اسی الیکشن ٹریبونل کے روبرو حلقے کے ایک ووٹر خرم شاہ نے بھی نواز شریف کی اہلیت کے خلاف اعتراض پر مبنی درخواست داخل کی ہے۔

شریف برادران کے وکیل اشتراوصاف علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی ٹریبونل کےروبرو درخواست دینے کا وقت گزر چکا ہے اور قانون کے مطابق محض ووٹر کسی امیدوار کی اہلیت کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر اب نواز شریف کے خلاف حلقہ این اے ایک سو تئیس سے کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔

اشتر علی اوصاف نے کہا کہ نواز شریف نے راولپنڈی کے حلقہ این اے باون سے دستبرداری کا حلف نامہ داخل کرا دیا ہےاس طرح اس حلقے سے ان کی اہلیت کے خلاف دائر کردہ اپیل ازخود غیر موثر ہوگئی ہے۔

ادھر اسی حلقے کی انتخابی عذرداریاں سننے والے الیکشن ٹریبونل کے دونوں ججوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت کے خلاف اپیلیں سننے سے انکار کردیا ہے۔ان کا یہ انکار ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک ہی روز پہلے نواز شریف اور شہباز شریف نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے کاغذات مسترد کرانے کے لیے سازش کی جارہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد