نواز، شہباز کاغذات پر فیصلہ محفوظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضمنی انتخابات کے لیے لاہور سے مسلم لیگ نون کےسرابرہ میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر متعلقہ ریٹرنگ آفیسرز نے اعتراضات کی سماعت کے بعد فیصلے محفوظ کر لیے ہیں جو ایک دو روز میں سنایا جائیں گے۔ میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں راولپنڈی سے این اے باون اور لاہور سے این اے ایک سو تئیس سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ لاہور میں ان کے مخالف امیدوار میاں اخلاق گڈو اور آزاد امیدوار نورالہی نے ریٹرنگ افسرکے روبرو ان کی اہلیت پر اعتراضات داخل کیے۔ جبکہ میاں نواز شریف کے وکلاء نے ان اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔ میاں اخلاق گڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے نواز شریف کےطیارہ سازش کیس میں سزایافتہ ہونے کا حوالہ دیا اورکہا کہ اسی بنیاد پر عام انتخابات میں ان کے کاغذات مسترد کیے گئے اور چونکہ ضمنی انتخابات انہی عام انتخابات کا تسلسل ہے اس لیے انہیں ان انتخابات میں بھی نااہل قرار دیا جائے۔ میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر یہ اعتراض بھی لگایا گیا کہ انہوں نے ان کے ہمراہ اپنے اثاثہ جات کی تفصیل نہیں لگائی۔
مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے پنجاب کی پانچ نشتسوں سے کاغذات جمع کرائے ہیں جن میں دو لاہور اور ایک ایک راولپنڈی،سیالکوٹ اور بھکر میں جمع کرائے گئے ہیں۔ لاہور کے حلقہ ایک سوچون اور ایک سو اکتالیس سے تین افراد سلامت علی، اظہرلودھی اور شاہد اورکزئی نے اعتراض لگایا کہ وہ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں سپریم کورٹ پر ہونے والےحملے میں ملوث اور اس کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے چودہ اپریل کو شریف میڈیکل کمپلیکس میں عدلیہ کے بارے میں جو ریمارکس دئیے وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں اور آئین کے آرٹیکل کے ترسیٹھ بی ون کے تحت توھین عدالت کا مرتکب شخص عام انتخابات کے لیےنااہل ہے۔ شریف برادران کے وکیل اشتر علی اوصاف نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایک ایک حلقے کے کاغذات نامزدگی پر سماعت کے بعد فیصلہ جمعرات تک کے لیے محفوظ کیا گیا ہے جبکہ شہباز شریف کی لاہور کےحلقہ ایک سو اکتالیس پر فیصلہ سترہ مئی کو متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے کاغذات نامزدگی کو راولپنڈی، بھکراور سیالکوٹ میں بھی اعتراضات کا سامنا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی اڑتیس نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں جس میں سے قومی اسمبلی کی آٹھ اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستوں کے لیے کاغذات کی جانچ پڑتال کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ کاعذات کی جانچ پڑتال بیس مئی تک جاری رہے گی جبکہ کاغذات مسترد ہونے کی صورت میں ٹربیونل کو درخواستیں چوبیس مئی کو جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں تشکیل دیئے گئے ٹربیونل اکتیس مئی تک ان درخواستوں پر فیصلے سنائیں گے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے لیے شریف برادران کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے تھے اور انہوں نے پی سی او کے حلف یافتہ ججوں پر مشتمل ٹریبونل کے سامنے اپیل نہیں کی تھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اُمیدوار دو جون کو اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور اُسی روز ان ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کے ناموں کی فہرست شائع کر دی جائے گا۔ | اسی بارے میں شہباز ہی وزیراعلیٰ ہونگے: نواز08 March, 2008 | پاکستان دھاندلی ہوئی تو ملک گیر تحریک17 February, 2008 | پاکستان انتخابی دھاندلی، مبصرین سےشکایت08 January, 2008 | پاکستان الیکشن 8 جنوری کوہوں: شریف31 December, 2007 | پاکستان ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان لیگی استعفے، پی پی کا اہم اجلاس14 May, 2008 | پاکستان لیگی استعفے وزیرِ اعظم کے حوالے13 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||