BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیگی استعفے وزیرِ اعظم کے حوالے

’وزیرِ اعظم حکومت کا کپتان ہوتا ہے اس لیے استعفے صدر کے بجائے ان کے حوالے کیے گئے ہیں: ترجمان نواز لیگ

ججوں کی بحالی پر اختلافات کے بعد منگل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نو وزراء نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں۔

سینئر وزیر چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ مسلم لیگی وزراء نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اپنے استعفے پیش کیے۔

استعفیٰ دینے والے وزراء اور ان کے محکموں کے نام یہ ہیں۔ چوہدری نثار علی خان مواصلات، خواراک و زراعت، اسحٰق ڈار خزانہ و اقتصادی امور، خواجہ محمد آصف پیٹرولیم و قدرتی وسائل، احسن اقبال، تعلیم ، تہمینہ دولتانہ سائنس و ٹیکنالوجی، خواجہ سعد رفیق ثقافت، شاہد خاقان عباسی تجارت، سردار مہتاب احمد خان، ریلوے اور رانا تنویر حسین دفاعی پیداوار۔

استعفے ابھی منظور نہیں ہوئے
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فی الحال استعفے منظور نہیں کیے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ آصف علی زرداری کی وطن واپسی پر ہوگا۔ آصف علی زرداری لندن سے دبئی پہنچ گئے ہیں اور آج رات تک اسلام آباد پہنچیں گے۔

آئین کی شق 92 (3) کے تحت کوئی بھی وفاقی وزیر اپنی ہاتھ سے لکھا ہوا استعفیٰ صدر ِ مملکت کو پیش کرسکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے وزیراعظم سے ملاقات کی اوراپنے استعفے ان کے حوالے کیے۔

اس بارے میں مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا کہ حکومت کا کپتان وزیراعظم ہوتا ہے اس لیے انہیں استعفے پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق اب وزیراعظم ان استعفوں کو منظوری کے لیے ’ڈی فیکٹو صدر‘ کو بھجوا دیں گے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فی الحال استعفے منظور نہیں کیے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ آصف علی زرداری کی وطن واپسی پر ہوگا۔ آصف علی زرداری لندن سے دبئی پہنچ گئے ہیں اور آج رات تک اسلام آباد پہنچیں گے۔

’سازش کا حصہ نہیں بنیں گے‘
نواز شریف نے کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور اس کو غیر مستحکم کرنے کی ’سازشوں‘ کا حِصّہ نہیں بنیں گے۔

ادھر پیپلز پارٹی نے پنجاب کے تمام منتخب ارکانِ اسمبلی اور صوبے سے تعلق رکھنے والے مجلس عاملہ اور فیڈرل کونسل کے تمام اراکین کا ایک ہنگامی اجلاس بدھ چودہ مئی کو زرداری ہاوس اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔ اس اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے علیحدگی کے بعد مرکز اور پنجاب کی صوبائی حکومت کے حوالے سےصلاح مشورہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پیر بارہ مئی کو حکمراں اتحاد پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونےکا اعلان کیا تھا۔

نواز شریف نے کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور اس کو غیر مستحکم کرنے کی ’سازشوں‘ کا حِصّہ نہیں بنیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے بارے میں فیصلہ انہوں نے پیپلزپارٹی کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔

ادھر وزریر اعظم کو استعفے دینے کے بعد بریفنگ میں چودھری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم استعفے قبول کریں یا نہیں یا پھر وہ کسی کو منظوری کے لیے بھیجیں یا نہیں ان کے تمام وزراء کو مستعفی سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکومتی بینچوں پر ہی بیٹھے گی اور حکومتی اتحاد کا حصہ بھی رہے گی۔

’صدر مشرف نظام کے لیے وائرس‘
 صدر پرویز مشرف پاکستان میں جمہوری نظام کے کمپیوٹر میں ایک وائرس کی مانند ہیں اور انہیں جلد سے جلد نکالنا ہوگا
احسن اقبال

انہوں نے بتایا کہ وزیر تجارت شاہد خاقان عباسی بیرون ملک ہیں اور وہ سترہ مئی کو واپس آئیں گے لیکن ان کا استعفیٰ بھی وزیرِ اعظم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پنجاب میں صوبائی حکومت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پنجاب میں حکومت ہمیں خیرات میں ملی ہے اور نہ کسی جنرل کی وردی سے چمٹ کر حاصل کی گئی ہے، پنجاب حکومت کا عوامی قوت سے دفاع کریں گے، لیکن یہ وضاحت بھی کردوں کہ ہماری سوئی وہاں نہیں پھنسی ہوئی اور اگر عظیم اصولوں کی خاطر پنجاب کی حکومت بھی جاتی ہے تو ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی رہائی کے لیے ان کی جماعت نے کوششیں کی تھیں اور متعقلہ حکام سے طے ہوا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا وفد ان سے ملاقات کرے گا لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔

اس موقع پر موجود احسن اقبال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر پیپلز پارٹی عدلیہ کے استحکام، پارلیمان کی بالا دستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے کوئی آئینی ترمیم لائی تو اس کی حمایت کی جائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ صدر پرویز مشرف پاکستان میں جمہوری نظام کے کمپیوٹر میں ایک وائرس کی مانند ہیں اور انہیں جلد سے جلد نکالنا ہوگا۔

اسی بارے میں
لندن میں مذاکرات ناکام
09 May, 2008 | پاکستان
’حقائق چھپانے کی کوشش‘
30 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد