’ہنی مون ختم، شادی چلتی رہےگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے علیحدگی علامتی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد ایک اہم قومی مسئلہ کو اجاگر کرنا ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت جاری رکھے گی اور ان کی علیحدگی کا مقصد ملک میں کوئی بحران پیدا کرنا نہیں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے استعفوں کے بعد خالی ہونے والی وزارتوں پر نئے وزراء کو نامزد نہ کرنے کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے وزراء کے پاس بڑی اہم وزارتوں کے قلمدان تھے اور ان کو زیادہ دیر تک خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ خواجہ آصف جنہوں نے وزارتِ پیٹرول اور قدرتی وسائل کی سے استعفی دیا کہا کہ پیپلز پارٹی کو اس مسئلہ پر جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام یا کوئی بحران پیدا کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری قوت ہے اور وہ اس کے مقابلے میں کسی غیر جمہوری قوت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ایک سوال پر کہ کیا ان دونوں جماعتوں کے درمیان ’ہنی مون‘ ختم ہو گیا ہے خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہنی مون‘ تو کبھی نہ کبھی ختم ہونا ہی ہوتا ہے لیکن شادی چلتی رہتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور اپنی جماعت کے اشتراک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی چلتا رہے گا۔ | اسی بارے میں لندن میں مذاکرات ناکام09 May, 2008 | پاکستان ’اتحاد، عدلیہ، امریکہ یا روٹی کپڑا اور مکان‘ 11 May, 2008 | پاکستان حمایت جاری رکھیں گے: نثار12 May, 2008 | پاکستان جمہوریت کےدشمن سرگرم ہیں: حقانی12 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||