BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 May, 2008, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز، شہباز اہلیت، ٹریبونل منقسم

نواز
نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اکرم قریشی اور مسٹر جسٹس حافظ طارق نسیم پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخابات لڑنے کی اہلیت کے معاملے پر منقسم رائے ہونے کی بنا پر یہ معاملہ چیف الیکشن کمِشنر کو بھجوا دیا ہے۔

نواز شریف کے قومی اسمبلی کے لیے جبکہ شہباز شریف کے صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی قبول کیے جانے کے فیصلے کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا تھا۔

الیکشن ٹریبونل نے شریف برادران کے خلاف دائر ان اپیلوں پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ جمعہ کو محفوظ کردیا تھا۔

سنیچر کو ٹریبونل کے ارکان میں اختلاف رائے ہونے کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ٹریبونل کے رکن اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا جبکہ اسی ٹریبونل کے دوسرے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دیا۔

نواز شریف کے وکیل سابق اڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ جب منقسم فیصلہ آئے تو ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے مطابق دونوں بھائی الیکشن لڑنے کے اہل ہیں اور الیکشن لڑیں گے۔

ہائی کورٹ کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ’وزیر اعظم نواز شریف‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔

ٹریبونل کے ارکان میں اختلاف رائے
 سنیچر کو ٹریبونل کے ارکان میں اختلاف رائے ہونے کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ٹریبونل کے رکن اکرم قریشی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیدیا جبکہ اسی ٹریبونل کے دوسرے رکن جسٹس حافظ طارق نسیم نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو انتخابات لڑنے کا اہل قرار دیا۔
یاد رہے کہ جمعہ کے روز جسٹس اکرم قریشی اور جسٹس حافظ طارق نسیم پر مشتمل الیکشن ٹریبونل نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی قبول کرنے کے خلاف اپیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

یہ اپیلیں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف مختلف انتخابی حلقوں سے دائر کی گئی ہیں۔

سیالکوٹ کے حلقے پی پی 124 سے ذوالفقار علی گھمن، بھکر سے پی پی 48 سے سید خرم شاہ، لاہور کے پی پی 141 سے اظہر خان لودھی، لاہور کے ہی پی پی 154 سے سید خرم علی شاہ نے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگیوں کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقے 123 سے نور الٰہی اور راولپنڈی کے حلقے باون سے ناصر راجہ نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔

جمعہ کو ہونے والی کارروائی میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے وکلاء ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ تاہم ممتاز قانون دان ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے سول سوسائٹی کی طرف سے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی حمایت میں دلایل دیے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی کی سزا معاف کر دیتے ہیں تو اس شخص کا جرم بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ صدر نے ان کی سزا معاف کردی ہے اس لیے نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل ہیں اور ان کو کسی صورت بھی نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے نواز شریف کے خلاف اپیلوں پر اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیلیں مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد کی گئی ہیں اس لیے یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔

ٹریبونل کے سامنے وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ندیم الدین نےاپنے دلائل میں کہا تھا کہ ان کے سامنے اس نوٹیفیکیشن کی کاپی موجود نہیں ہے جس سے وہ بتا سکیں کہ آیا نواز شریف کی سزا جزوی طور پر معاف کی گئی تھی یا مکمل طور پر۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد