BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 June, 2008, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی پیکج پر نواز لیگ کی کمیٹی

احسن اقبال(فائل فوٹو)
’کمیٹی دو تین زور میں پیپلز پارٹی کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گی‘
مسلم لیگ نون نے پیپلز پارٹی کی طرف سے آئینی پیکِج کا مسودہ ملنے کے بعد اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا اجلاس تین جون کو ہوگا۔

یہ بات مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ وفاقی وزیر قانون نے اتوار کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے رائیونڈ میں ملاقات کی اور ان کو آئینی پیکِج کا مسودہ دیا۔

’دو تین روز میں‘
 کمیٹی اپنے اجلاسوں کے بعد دو تین زور میں پیپلز پارٹی کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گی
احسن اقبال
احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی تین جون کو اپنے ہونے والے اجلاس میں آئینی پیکِج کا شق وار جائرہ لے گی اور متبادل تجویز بھی پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی اپنے اجلاسوں کے بعد دو تین زور میں پیپلز پارٹی کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گی۔

ان کے بقول آئینی پیکج کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوکمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کے سربراہ راجہ ظفر الحق ہونگے جبکہ دیگر ارکان میں چودھری نثار علی خان، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال کے علاوہ قانونی ماہرین فخرالدین جی ابراہیم اورخواجہ حارث سمیت دیگر قانون دانوں پرمشتمل ہوگی۔

ادھر نوازشریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہےکہ معزول ججوں کی بحالی آئین کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے ہوگی اور معزول ججوں کو وہی سینیارٹی دی جائےگی جو ان کو تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو حاصل تھی۔

ان کے بقول نواز شریف سے ملاقات کے دوران آئینی پیکج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مسلم لیگ نون کے رہنما چودھری نثار علی خان، اسحاق ڈار، راجہ ظفر الحق، خواجہ آصف اور خواجہ حارث موجود تھے۔

چیف جسٹس کا عہدہ
 چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کی معیاد کے سوال پر کہا کہ اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا چنانچہ اس معاملے پر ابھی بات ہوگی اور اتحادی جماعتوں کےسربراہان کی ملاقات میں اس پرحمتی فیصلہ کیا جائے گا
فاروق نائیک

وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی پیکیج کا مسودہ حتمی نہیں ہے اور اس میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج پیپلز پارٹی کی ایک تجویز ہے اور اتحادی جماعتیں اس پیکج کے لیے تجاویز دے سکتی ہیں تاہم آئینی پیکج کے بارے میں آخری فیصلہ پارلیمان نے کرنا ہے۔

فاروق نائیک نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کی معیاد کے سوال پر کہا کہ اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا چنانچہ اس معاملے پر ابھی بات ہوگی اور اتحادی جماعتوں کےسربراہان کی ملاقات میں اس پرحمتی فیصلہ کیا جائے گا۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج کب پارلیمان پیش کیا جائےگا اس کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔

آئینی پیکج کب؟
بجٹ اجلاس سے قبل پیکج کی منظوری مشکل
غداری کا مقدمہ
مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا: نواز
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
بش اور مشرفمشرف کی حمایت
صدر مشرف کا کردار جاری رہے گا: جارج بُش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد