آصف، نواز ملاقات، اختلافات برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف میں ملاقات ہوئی ہے۔ اب ججوں کی بحالی کے معاملے پراختلافات کو دور کرنے کے لیے جمعہ کو دونوں رہمنائوں میں دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ بدھ کے روز لاہور کے قریب جاتی عمرا فارم ہاؤس میں ہونے والی یہ ملاقات ڈھائی گھنٹوں تک جاری رہی۔ ملاقات میں ججوں کی بحالی، مجوزہ ترمیمی آئینی پیکیج اور پنجاب میں حکومتی امور پر دونوں جماعتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی معاونت پی پی پی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر، داخلہ کے مشیر رحمٰن ملک، پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض اور سابق صوبائی وزیر غلام عباس نے کی جبکہ مسلم لیگ نواز کی ٹیم میں پارٹی کے قائد نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، ایم این اے خواجہ آصف، مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال اور سردار ذوالفقار کھوسہ شامل تھے۔ ملاقات کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے میڈیا کو بتایا کہا کہ ججوں کی بحالی کے طریقہِ کار پر فریقین کے درمیان اختلافات جوں کے توں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اب جمعہ کے روز دوبارہ جاتی عمرا فارم ہاؤس ہی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوگی۔
ان کے مطابق مسلم لیگ نون کا دوسرا ہدف مخلوط حکومت کو کامیاب بنانا ہے۔ تا کہ بقول احسن اقبال صدر مشرف اور دوسری قوتیں جو اس جمہوری حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ان کو ان کا کھیل کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کے مسلم لیگ نون ان دونوں محاذوں پر کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے وکلا کے لانگ مارچ کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ لانگ مارچ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عوام نے اٹھارہ فروری کو صدر مشرف کے خلاف اور ججوں کی بحالی کے لیے جو فیصلہ دیا تھا، عوام اسی شدت سے اس فیصلے پر قائم ہیں۔ صدر کے مواخذے سے متعلق سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ نون کا پہلے دن سے صدر مشرف کا مواخذہ کرنا چاہتی ہے اور آج بھی یہ ہی موقف اختیار کیا گیا کہ اس ملک کے مستقبل کا دارومدار صدر مشرف کو رخصت کرنے پر ہے کیونکہ احسن اقبال کے مطابق وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ایوان صدر میں بیٹھ کر جمہوریت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے جس تبدیلی کےلیے اٹھارہ فروری کو ووٹ دیا وہ تبدیلی تب تک ممکن نہیں جب تک مشرف کو رخصت نہیں کیا جاتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کے ججوں کی بحالی پر دونوں جماعتوں میں اتفاق ہے تاہم طریقہ کار پر اختلافات ہیں اور کوشش کی جا رہی کہ یہ اختلافات ختم کئے جائیں تاکہ ججوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے اور وہ تو چاہتے ہیں کہ چوبیس گھنٹوں میں ججوں کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک جج بحال نہیں ہوں گے تب تک مسلم لیگ ن کے وزرا وفاقی کابینہ میں واپس نہیں جائیں گے۔ | اسی بارے میں آئینی پیکج تیار ہے:فاروق نائیک19 May, 2008 | پاکستان ’ایوانِ صدر میں بھی جئے بھٹو ہوگا‘16 June, 2008 | پاکستان ’مشاورت سے نیا صدر لائیں گے‘17 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات14 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||