BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 June, 2008, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایوانِ صدر میں بھی جئے بھٹو ہوگا‘

آصف زرداری
شہر کو پیپلز پارٹی کے بینروں اور جھنڈوں سے سجایا گیا تھا
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمن آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ ایوان صدر میں سلمان تاثیر جیسا جیالا صدر ہوگا اور ایوان صدر کی دیواریں جئے بھٹو کے نعروں سے گونجیں گی۔ وہ گورنر ہائوس لاہور میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اجتماع سے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے بھی خطاب کیا۔


آصف زرداری دو روزہ دورے پر پیر کی شام لاہور پہنچے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔

آصف زرداری کی لاہور آمد کے موقع پر مال روڈ کو استقبالی بینروں، بینظیر بھٹو، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی تصویروں سے سجایا گیا تھا۔ زرداری کی آمد سے قبل ایئر پورٹ پر پارٹی کارکن بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور انہیں جلوس کی شکل میں گورنر ہاؤس لے جانے کی تیاریاں کی گئیں لیکن سیکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے آصف زرداری جلوس کے ساتھ گورنر ہاؤس نہیں گئے۔

ایئر پورٹ پر پارٹی کے کارکن’ ایک زرداری سب پہ بھاری، زندہ ہے بی بی زندہ ہے اور جئے بھٹو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

گورنر ہاؤس میں آصف زرداری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ہی گورنر ہاؤس ہے جہاں سے جمہوریت کے غاصب آصف لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کر کے انہیں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت بھی جمہوریت کے مجرم تھے اور آج بھی ہیں اور ’جمہوریت کے انہی مجرموں نے ہم سے ہماری بینظیر چھین لی ہے‘۔

انہوں نے کہا پاکستان میں کوئی بھی ایسی قوت نہیں جو فخر سے سر اٹھا کر یہ کہ سکے کہ وہ جمہوریت کے شہیدوں کی وارث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہیدوں کی سیاست کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات میں بھی کہتے رہے ہیں اور اب پھر کہتے ہیں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ صرف جان دینا جانتے ہیں جان لینا نہیں جانتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وہ جان دے سکتے ہیں تو جان لے بھی سکتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ کوئی انہیں جمہوریت نہ سکھائے۔ پیپلز پارٹی نے پاکستان میں جمہوریت سکھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو نے ایوب خان کو دفن کیا، یحیٰ خان سے جنگ کی، اور اب بھی اگر جمہوریت کے ان ڈاکؤں سے جنگ کرنا پڑی تو وہ صرف ارو صرف پیپلز پارٹی کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ایوان صدر میں بھی پنجاب کے گورنر ہاؤس کی طرح پیپلز پارٹی کا نامزد صدر ہوگا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاسی تحریکیں کیا ہوتی ہیں وہ جانتے ہیں۔ لانگ مارچ تب ہوگا جب وہ لانگ مارچ کریں گے اور میلہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے لیکن لانگ مارچ صرف وہ ہی کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد