تمام جج بحال کرنا چاہتے ہیں: زرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت چیف جسٹس افخار محمد چوہدری سمیت تمام ججوں کو بحال کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے ٹھوس آئینی اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدھ کو زرداری ہاؤس میں پیپلز لائرز فورم کے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے آئینی پیکیج میں اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیپلز لائرز فورم کے اس اجلاس میں اعتزاز احسن شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس میں شریک راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے بعض وکلاء نے زرداری ہاؤس کے باہر موجود صحافیوں کو بتایا کہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تصادم نہیں چاہتی۔ ان کے مطابق اگر پولیس کے ذریعے معزول ججوں کو بحال کروایا تو پہلے سے عدالتوں میں بیٹھے جج رینجرز کو بلوا سکتے ہیں اور اس سے تصادم ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اگر عدلیہ میں تصادم ہوا تو ملک میں مارشل کی راہ ہموار ہوگی اور جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وکلاء کے مطابق آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے جو اقدامات تجویز کیے ہیں ان سے عدلیہ بطور ادارہ مستحکم ہوگی اور کسی فرد کو مستحکم نہیں کرنا چاہیے۔ اجلاس میں شریک اور پاکستان بار کونسل کے رکن شفقت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں حکومت کے مجوزہ آئینی پیکیج کی توثیق کی گئی۔ ان کے مطابق بعض وکلاء نے تجویز پیش کی کہ چاروں صوبوں میں علیحدہ علیحدہ سپریم کورٹ قائم کیے جائیں اور تمام سول اور فوجداری مقدمات صوبے کی سطح پر نمٹائے جائیں۔ جبکہ وفاقی کی سطح پر فیڈرل کورٹ قائم کی جائے جو صرف آئینی معاملات کو نمٹائے۔ شفقت عباسی نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے وکلاء سے کہا کہ وہ اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کریں اور ان پر حکومت غور کرے گی۔ شفقت عباسی کے مطابق بعض وکلاء نے آئینی پیکیج کے بارے میں وضاحتی سوالات بھی پوچھے جن کے وزیر قانون فاروق نائیک نے جواب دیے۔ تاہم ان کے بقول وزیر قانون کو ایک اور اجلاس میں جانا تھا اس لیے وہ چلے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں منشیات کیس، سماعت ملتوی26 April, 2008 | پاکستان زرداری پر منشیات کیس کی سماعت27 March, 2008 | پاکستان منشیات سمگلر انسپکٹرگرفتار03 September, 2006 | پاکستان اقوام متحدہ:مزید امداد کا وعدہ12 May, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||