BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تمام جج بحال کرنا چاہتے ہیں: زرداری

آصف علی زرداری
یہ آصف علی زرداری کے خلاف زیرِ سماعت آخری مقدمہ تھا
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت چیف جسٹس افخار محمد چوہدری سمیت تمام ججوں کو بحال کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے ٹھوس آئینی اقدامات کرنے ہوں گے۔

بدھ کو زرداری ہاؤس میں پیپلز لائرز فورم کے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے آئینی پیکیج میں اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیپلز لائرز فورم کے اس اجلاس میں اعتزاز احسن شریک نہیں ہوئے۔

اجلاس میں شریک راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے بعض وکلاء نے زرداری ہاؤس کے باہر موجود صحافیوں کو بتایا کہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تصادم نہیں چاہتی۔

ان کے مطابق اگر پولیس کے ذریعے معزول ججوں کو بحال کروایا تو پہلے سے عدالتوں میں بیٹھے جج رینجرز کو بلوا سکتے ہیں اور اس سے تصادم ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول اگر عدلیہ میں تصادم ہوا تو ملک میں مارشل کی راہ ہموار ہوگی اور جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وکلاء کے مطابق آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے جو اقدامات تجویز کیے ہیں ان سے عدلیہ بطور ادارہ مستحکم ہوگی اور کسی فرد کو مستحکم نہیں کرنا چاہیے۔

اجلاس میں شریک اور پاکستان بار کونسل کے رکن شفقت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں حکومت کے مجوزہ آئینی پیکیج کی توثیق کی گئی۔

ان کے مطابق بعض وکلاء نے تجویز پیش کی کہ چاروں صوبوں میں علیحدہ علیحدہ سپریم کورٹ قائم کیے جائیں اور تمام سول اور فوجداری مقدمات صوبے کی سطح پر نمٹائے جائیں۔ جبکہ وفاقی کی سطح پر فیڈرل کورٹ قائم کی جائے جو صرف آئینی معاملات کو نمٹائے۔

شفقت عباسی نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے وکلاء سے کہا کہ وہ اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کریں اور ان پر حکومت غور کرے گی۔

شفقت عباسی کے مطابق بعض وکلاء نے آئینی پیکیج کے بارے میں وضاحتی سوالات بھی پوچھے جن کے وزیر قانون فاروق نائیک نے جواب دیے۔ تاہم ان کے بقول وزیر قانون کو ایک اور اجلاس میں جانا تھا اس لیے وہ چلے گئے تھے۔

آصف زرداری چار مقدمات اور
آصف زرداری پر ابھی چار مقدمات اور ہیں
’سچائی اور مصالت‘
ریاستی جبر کا شکار افراد کے لیے کمیشن
نیبکون کون بچ سکتا ہے
مصالحتی آرڈیننس سے کسے فائدہ ہو رہا ہے؟
بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف’مصالحت کا قانون‘
ماہرینِ قانون کی مصالحتی آرڈیننس پر رائے منقسم
نیب لوگومصالحتی آرڈیننس
مصالحت سے کون کون رہے گا فائدے میں؟
اسی بارے میں
منشیات کیس، سماعت ملتوی
26 April, 2008 | پاکستان
منشیات سمگلر انسپکٹرگرفتار
03 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد