اقوام متحدہ:مزید امداد کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے کے سربراہ، اینتونیو ماریہ کوسٹا نے کہا ہے کہ ہیروئن کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ پاکستان کے ساتھ مزید تعاون کریں گے تاکہ سرحدوں اور بندرگاہوں سے منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کیے جاسکیں۔ جمعرات کے روز پاکستان کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد انسداد منشیات ڈویژن کے وفاقی وزیر غوث بخش مہر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کو المناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سمگلر ہیروئن اور دیگر منشیات پاکستان لاتے ہیں جہاں سے انہیں دنیا بھر میں سمگل کیا جاتا ہے اور پاکستان میں پانچ لاکھ ہیروئن استعمال کرنے کے عادی لوگوں کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں پوست کی زیادہ کاشت خود پاکستان کے لیے بھی ایک خطرہ سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے پاکستان سے منشیات کی سمگلنگ کو ختم کرنے کے بارے میں تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے انہیں مزید تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنے تعاون کے حوالے سے کہا کہ ’تبدیلی آرہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو مجرم اس ملک کو منشیات اور ناجائز دولت سے آلودہ کر رہے ہیں انہیں ایک بڑا سرپرائیز ملے گا۔‘ اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ نے پاکستان کے انسداد منشیات کے ادارے کے اقدامات اور پالیسی کو سراہا۔ لیکن انہوں نے زور دیا کہ افغان سرحد اور کراچی بندرگاہ پر منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے متعلقہ وزیر نے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور اپنے مہمان کو یقین دلایا کہ وہ ملک سے جلد پوست کی کاشت کا صفایا کریں گے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان سے پوست کی کاشت کا خاتمہ ایک کامیاب کہانی تھی لیکن پھر بھی اس ملک سے افغان ہیروئن خاصی مقدار میں لاکر باہر سمگل کی جاتی رہی ہے۔ جو کہ ان کے بقول پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر ایک قسم کا حملہ ہے اور اسے روکنا سیکورٹی ایجنسیز کے لیے ایک چیلینج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سمگلر پاکستان کے شمال مغربی علاقے کے غاروں میں چھپتے ہیں اور اپنی غیرقانونی آمدنی کے حصول کو اس حد تک یقینی بناتے ہیں کہ وہ اپنے آئندہ منصوبوں پر عمل جاری رکھ سکیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف، وزارت داخلہ اور انسداد منشیات کے وزراء سے انہوں نے پاکستان میں پوست کی کاشت کی بحالی، دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر منظم جرائم کی وجہ سے لاحق خطرات کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں ایک لاکھ تیس ہزار ہیکٹر کے رقبے پر پوست کاشت ہوئی ہے اور گزشتہ سال چار ہزارد دو سو ٹن منشیات کی پیداوار ہوئی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||