BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لانگ مارچ کے بعد اٹھنے والے سوالات

احتجاجی وکیل
لانگ مارچ کے شرکاء اپنی واپسی پر اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ اس لانگ مارچ سے انہوں نے کیا وہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے جس کے لیے وہ اسلام آباد پہنچے تھے
پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا لانگ مارچ چار دنوں تک جاری رہنے کے بعد سینچر کی صبح ختم ہوگیا۔ لانگ مارچ سکھر سے شروع ہوا تھا جہاں کراچی اور کوئٹہ سے وکلاء اکٹھے ہوئے تھے۔مارچ میں سیاسی جاعتوں، سِول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ نے بھی حِصّہ لیا۔

آئندہ کی حکمت عملی کے اعلان کے بغیر ختم ہونے والے اس لانگ مارچ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان سوالوں میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ کے بعد اب وکلاء کا آئندہ قدم کیا ہوگا اور اس لانگ مارچ سے انہیں کیا کامیابی ملی ہے۔

وکلاء کا رد عمل اور اعتزاز
 وکلاء کے درعمل کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح کے نعرے لگائے گئے ہیں اس سے ان کو دکھ ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ نعرے دراصل ان کی طرف اشارے ہیں۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ خدا قسم کسی نے کوئی سودے بازی نہیں بلکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم دھرنا دیں لیکن جو بیٹھا چاہتا ہے وہ بیٹھ سکتا ہے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے لانگ مارچ سےقبل یہ کہا تھا کہ وکلاء تحریک کی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان لانگ مارچ عمل درآمد کمیٹی اسلام آباد میں کرے گی۔ تاہم وکلاء قیادت کی طرف سے کوئی اعلان نہ ہونے سے لانگ مارچ کےشرکاء مایوسی کا شکار ہوئے جس کا انہوں نے برملا اظہار کیا ہے۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ لانگ مارچ شروع کرنے سے پہلے آئندہ کا لائحہ عمل کیوں ترتیب نہیں دیا گیا اور کس بات کا انتظار کیا گیا ہے۔

لانگ مارچ سے پہلے اور اس کےدوران وکلاء رہنما مختلف مقامات پر اپنی تقاریر میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا عندیہ دیتے رہے اور اسی وجہ سے لانگ میں شامل وکیل اس تیاری کے ساتھ اسلام آباد پہنچے ان کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینا ہے۔

قیادت کی جانب سے دھرنا نہ دینے کے اشارے ملنے پر وکلاء نے نہ صرف اس ردعمل کا اظہار کیا بلکہ نعرے بازی بھی کی گئی ہے۔

وکلاء کے درعمل کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح کے نعرے لگائے گئے ہیں اس سے ان کو دکھ ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ نعرے دراصل ان کی طرف اشارے ہیں۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ خدا کی قسم کسی نے کوئی سودے بازی نہیں بلکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم دھرنا دیں لیکن جو بیٹھا چاہتا ہے وہ بیٹھ سکتا ہے۔ ان کے بقول دھرنے سے پانچ لا کھ کا مجمعہ دو یا تین

دھرنے کے حامی وکلاء
 دھرنا دینے کےحامی وکلاء کی رائے ہے کہ لمبے عرصہ کے بجائے اگر اس دن بھر کے لیے دھرنا دیا جاتا جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا تو اس احتجاج کے ذریعے قومی اسمبلی کو ایک مؤثر انداز میں پیغام دیا جاسکتا تھا
ہزار تک محدود ہوجائے گا۔

اگر وکلاء رہنماؤں کو اس بات کا اندازہ تھا کہ وسائل کی کمی اور موثر انداز میں پارلیمنٹ دھرنا نہیں دیا جاسکتا تو اس تاثر کو پہلے زائل کیوں نہیں کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے پاس دھرنا نہیں ہوگا اور وکلا رہنماؤں کو اس بارے میں بیان دینے سے کیوں منع نہیں کیا گیا۔

وکلاء لانگ مارچ کا قافلہ جب اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کےسامنے پہنچا تھا تو اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو رہا تھا لیکن جس صبح لانگ مارچ کے قافلے واپس جارہے تھے اسی زور چند گھنٹوں کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے والا تھا ۔

دھرنا دینے کےحامی وکلاء کی رائے ہے کہ لمبے عرصہ کے بجائے اگر اس دن بھر کے لیے دھرنا دیا جاتا جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا تو اس احتجاج کے ذریعے قومی اسمبلی کو ایک مؤثر انداز میں پیغام دیا جاسکتا تھا۔

لانگ مارچ کے شرکاء اپنی واپسی پر اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ اس لانگ مارچ سے انہوں نے کیا وہ مقصد حاصل کر لیا گیا ہے جس کے لیے وہ سفر کرکے اسلام آباد تک پہنچے تھے۔

لانگ مارچ کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وکلا رہنماؤں رشید رضوی کا کہنا ہے کہ جذبات میں آکر فیصلہ نہیں کیے جاتے لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا لانگ مارچ کا فیصلہ ایک سوچا سمجھ منصوبہ تھا یا جذباتی اعلان۔

لانگ مارچ کےبعد معزول ججوں کی بحالی کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے اور کیا دوبارہ اتنا منظم لانگ مارچ کرنا ممکن ہوگا؟ اس کے علاوہ اس سوال کا جواب بھی آنے والے دنوں میں مل جائے گا کہ لانگ مارچ نے وکلاء تحریک کو مضبوط کیا ہے یا یہ مارچ تحریک کی کمزوری کا باعث بنے گا۔

لانگ مارچوکلاء لانگ مارچ
اسلام آباد میں انتظامات اور تیاریاں
خورشید مسعودکہتی ہےخلقِ خدا
چیف جسٹس کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد