BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 June, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: پی پی پی کارکنوں کی شرکت

نواز شریف مینارِ پاکستان پر وکلاء رہنماؤں کے ہمراہ
نواز شریف نے کہا ہے کہ عدلیہ کی بحالی ان کا ’مشن‘ ہے

معزول عدلیہ کی بحالی کی لانگ مارچ کا قافلہ اس وقت جہلم سے نکل کر راولپنڈی اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔

جہلم میں قافلے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت نے ’معزول‘ ججوں کو تنخواہ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ معزول نہیں ہیں کیونکہ معزول ملازمین کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔

اس سے قبل لاہور کے بعد گجرات میں لانگ مارچ کے قافلے نے سب سے لمبے عرصے تک قیام کیا اور اعتزاز احسن سمیت علی احمد کرد، اقبال حیدر اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے شرکاء سے خطاب کیا۔

وکلاء رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گجرات میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے اٹھائے لوگ مارچ میں شریک ہوئے ہیں۔

نواز شریف اور وکلاء رہنما
نواز شریف وکلاء رہنماؤں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہیں

اس قافلے کے راستے میں جگہ جگہ استقبالی کیمپ موجود ہیں جہاں پر لوگ اس قافلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، نعرہ بازی کرتے ہیں اور پھول نچھاور کرتے ہیں۔

اس قافلے کر قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن، منیر اے ملک، حامد خان، علی احمد کرد اور دیگر وکلاء رہنما کر رہے ہیں۔

وکلاء برادری کے علاوہ اس قافلے میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز نمایاں ہے۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جی ٹی روڈ پر قائم استقبالیہ کیمپوں پر زیادہ تعداد پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی نظر آتی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء میاں نواز شریف نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو افسوس ہے کہ جمہوری حکومت آنے کے باوجود ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہیں۔

یہ بات انہوں نے وکلاء کے قافلے سے مینار پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ قافلہ اسلام آباد کے سفر پر لاہور ہائی کورٹ سے روانہ ہوا اور مینار پاکستان رکا۔

انہوں نے کہا کہ ان کو دکھ، افسوس بھی ہے اور حیرانگی بھی ہے کہ پچھلے سال سے وکلاء اور سول سوسائٹی ججوں کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد جمہوری حکومت کے آنے کے باوجود جج ابھی تک بحال نہیں ہوئے۔

’یہ جو سوغات ہمیں ملی ہے مشرف کی طرف سے اور جو جج بنے بیٹھے ہیں اور جو پاکستان کا حلف لینے کی بجائے مشرف کا حلف اٹھانے کو تیار ہیں۔‘ انہوں نے سوال کیے کہ کیا پاکستان کی قسمت میں ایسے جج رہ گئے ہیں جو بک جاتے ہیں اور جو مشرف کو جھک کر سلام کرتے ہیں۔ اس پر مظاہرین نے اونچی آواز میں نہیں کہا۔

’اگر پاکستان کو ایسے جج چاہیے تو ان ججوں کو پرائڈ آف پرفارمنس دو، ہلال جرات دو اور انعاموں سے نوازو۔ اور جب یہ مر جائیں تو ان کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرو جیسے کہ مشرقی پاکستان گنوانے والے جرنیلوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف پوری قوم کو کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بکاؤ جج عدلیہ میں بیٹھے ہیں جب کہ اصل جج رسووا ہو رہے ہیں۔

پرائڈ آف پرفارمنس
 اگر پاکستان کو ایسے جج چاہیے تو ان ججوں کو پرائڈ آف پرفارمنس دو، ہلال جرات دو اور انعاموں سے نوازو۔ اور جب یہ مر جائیں تو ان کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرو جیسے کہ مشرقی پاکستان گنوانے والے جرنیلوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا تھا۔
نواز شریف

نواز شریف نے کہا ’کتنا جھوٹا ہے کہ مشرف کہتا ہے کہ اس نے چیف جسٹس کا کیس سپریم جوڈیشل کاؤنسل کو دے دیا تھا کہ فیصلہ کریں۔ لیکن اس سے پہلے جو تین وردی میں جرنیل بٹھا کر چیف جسٹس سے استعفیٰ مانگا وہ کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے پہلے پوری کوشش کی کہ چیف جسٹس استعفیٰ دے دیں اور جب انہوں نے انکار کیا تو پھر کیس سپریم جوڈیشل کاؤنسل کو بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ وہی صدر مشرف ہیں جنہوں نے ان کی حکومت الٹی تھی اور آئین توڑا تھا۔ اور اب یہ جلد جا رہا ہے۔‘ انہوں نے حال ہی میں صدر مشرف کی میڈیا کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کہا کہ اس بریفنگ میں اپنی مرضی کے صحافی بلائے ہوئے تھے۔ ’اس کے چہرے پر نقلی ہنسی تھی، اس کی باڈی لینگوج بتا رہی تھی کہ وہ دبا ہوا ہے۔ وہ جلد جا رہا ہے اور بہت جلد جا رہا ہے۔‘

مہمند ایجنسی کے واقع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے یہ کرتوت ہیں کہ پہلے معصوم شہریوں کی جانیں جاتی تھیں اور اب فوجیوں کی جا رہی ہیں۔ ’کل جو حملہ ہوا ہے وہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہوا اور پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہوا ہے۔‘

انہوں نے وکلاء رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز لانگ مارچ میں ان کے ساتھ ہے اور ججوں کی بحالی تک ان کے ساتھ ہے اور یہ پاکستانی عوام کا فیصلہ ہے کہ جج بحال ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن کو انہوں نے منا لیا تھا کہ وہ راولپنڈی سے ضمنی انتخابات لڑیں اور وہ مان بھی گئے تھے۔ ’لیکن پھر معلوم نہیں کہ اعتزاز صاحب نے کیوں نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔‘

اس سے قبل علی احمد کرد نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قافلہ اسلام آباد دو خوابوں کی تعبیروں کے ساتھ جا رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ صدر مشرف اقتدار میں نہیں رہے گا اور دوسرا ججوں کی دو نومبر والی پوزیشن پر بحالی۔

شریف کا حملہ
 صدر مشرف کے یہ کرتوت ہیں کہ پہلے معصوم شہریوں کی جانیں جاتی تھیں اور اب فوجیوں کی جا رہی ہیں۔ کل جو حملہ ہوا ہے وہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہوا اور پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہوا ہے
نواز شریف

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اس وقت تک گھیراؤ جاری رہے گا جب تک کہ قرارداد منظور نہیں ہوتی اور جج بحال نہیں ہوتے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے نواز شریف کو ججوں کا ساتھ دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک نے تو بھوربن معاہدے پر اعتماد کیا تھا۔ ’ہم نے تو کسی کا ہاتھ نہیں روکا کہ وہ عوام کو آٹا فراہم نہ کرے، بجلی فراہم نہ کرے۔‘

افتخار محمد چودھدری اور اعتزاز احسن
تحریک کے ساتھی: چیف جسٹس افتخار نے وکلاء سے کہا ہے کہ وہ متحد رہیں

اس سے قبل وکلاء کا قافلہ لاہور ہائی کورٹ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔

لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز جمعرات کی صبح نو بجے ہونا تھا تاہم رات کنونشن کا اختتام تاخیر سے ہوا جس کی وجہ سے اس مارچ کا وقت دوپہر تین بجے کر دیا گیا۔

اس سے قبل معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لانگ مارچ کے آخری مرحلے کے آغاز پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وکیلوں کا ساتھ دیں کیونکہ ان کے بقول وکیل قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

وہ لاہور ہائی کورٹ میں وکیلوں کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جن میں لاہورکے علاوہ مارچ میں ملتان سے آنے والے شرکاء بھی تھے۔اس اجتماع میں چیف جسٹس سمیت سترہ معزول جج، سپریم کورٹ کے آٹھ ریٹائرڈ جج اور ملک بھر سے آئے وکلاء نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وکلاء نے نو مارچ سے جو انقلاب برپا کرنا شروع کیا ہے اس کا کسی منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے ورنہ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام ان سے بھی مایوس ہوجائیں گے۔

آئینی پیکج دھوکہ دینے کے مترادف
 آئینی پیکج عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب حکمران اتحاد کے پاس دوتہائی اکثریت ہی نہیں ہے تو آئینی ترمیم کیسے کر پائیں گے
جسٹس خواجہ شریف

انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ سے ہی جمہوریت آگے بڑھے گی۔

انہوں نے وکلاء کو کہا ہے کہ ان کی منزل بہت دور نہیں، بہت قریب ہے وہ ثابت قدم رہیں اور کسی رکاوٹ سے گھبرا کر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ انہوں نے وکلاء کو ہدایت کی وہ ڈسپلن برقرار رکھیں۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء سے قوم کی محبت دوگنی سے چوگنی ہوگئی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے یہ نیا سبق سکھایا ہے کہ ان کی بقا آئین اور قانون میں ہے۔

انہوں نے کہا آئین کی بالادستی ہوگی تو لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔انہوں نے کہا وکلاء نے آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اس تحریک میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پندرہ ماہ سے انہوں نے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ رکھے ہیں اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھا ہے۔’اگر وکلاء یہ قربانی نہ دیتے تو یہ دن دیکھنے کو نصیب نہیں ہوتا۔ وکلاءکی قربانی کی وجہ سے قوم میں بیداری آئی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکیلوں کی تحریک صرف ججوں کی بحالی پر ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ ہم ریاست کا مزاج اور سوچ بدلیں گے اور پاکستان کو قومی سلامتی کی ریاست کی بجائے ایک فلاحی ریاست بنائیں گے۔

ہائی کورٹ کے معزول جسٹس خواجہ شریف خطاب کے لیے آئے تو فرط جذبات سے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ جب حکمران اتحاد کے پاس دوتہائی اکثریت ہی نہیں ہے تو آئینی ترمیم کیسے کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پارلیمان سے کوئی خاص امید نہیں ہے۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر منظور قادر نے کہا کہ وہ روات سے اسلام آباد مڑ جانے کے فیصلے کو نہیں مانتے۔انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے وکلاء راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے ہوتے ہوئے فوجیوں کی رہائش گاہوں کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے اسلام آباد جائیں گے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمودالحسن نے کہا صدر مشرف کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کرنے پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے اور جس جج نے ان کے اقدامات کی توثیق کی انہیں بھی یہی سزا دی جائے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کےسابق صدر حامد خان نے آئینی پیکج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پی سی او ججوں کو بحال رکھنا ہے جو وکلاء کسی صورت برداشت نہیں کرتے۔

اسی ایسوسی ایشن کے ایک دوسرے سابق صدر منیر اے ملک نے کہا کہ وہ اراکین پارلیمان کو ان کے حلف کی اہمیت یاد دلانے کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد