وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے کراچی سے آنے والے وکلاء اور سیاسی کارکنان کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا ہے۔ سخت گرمی اور ایک لمبے سفر کے باوجود قافلے میں شریک وکلاء کے جوش میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ بہاولپور میں وکیل رہنما علی احمد کرد کے ضلعی بار سے خطاب کے بعد یہ قافلہ ملتان کے لیے روانہ ہو جائے گا۔ اس سے قبل پنجاب میں داخل ہونے پر قافلے کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ چھوٹے بڑے شہروں سےگزرتے اس قافلے پر پھول نچھاور کیے گئے۔ قافلے کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں نے معزول چیف جسٹس کے حق میں اور صدر مشرف کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ ادھر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لیے ملتان پہنچ گئے ہیں۔ ملتان پہنچنے پر معزول چیف جسٹس کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ جہاں انہیں پنجاب کی حکومت نے چیف جسٹس کا پروٹوکل دیا گیا ہے۔ درجنوں گاڑیوں، مسافر بسوں اور ویگنوں پر سوار سینکڑوں وکلاء اور سیاسی کارکنان کا یہ قافلہ منگل کی صبح سکھر سے روانہ ہوا تھا اور قومی شاہراہ پر سفر کرتا ہوا منگل کی شام کو رحیم یار خان پہنچا تھا۔ رحیم یار خان سے یہ قافلہ بہاولپور کی جانب روانہ ہوا تھا اور منگل اور بدھ کی درمیانی رات وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچا۔ قافلے کے دوران رحیم یار خان میں وکلاء سے خطاب کرتے علی احمد کرد نےکہا کہ تین نومبر کو ایک شخص نے پاکستان کے پانچ ہزار وکلاء کو جیلوں میں بند کر دیا تھا۔ علی احمد کرد نے کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور عوام بارہ جون کو صدر مشرف کو گھر بھیج دیں گے۔علی احمد کرد نے کہا کہ صدر مشرف کو گھر بھیجے تک وکلاء کی تحریک جاری رہے گی۔ صادق آباد اور ماچھی گوٹھ میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے قافلے کا استقبال کیا۔ اس قافلے کے راستے میں جگہ جگہ پوسٹر اور بینرز لگائے گئے تھے۔پنوعاقل اور گھوٹکی میں قافلے کے شرکاء نے مختصر قیام کیا اور چلچلاتی دھوپ میں جمع ہونے والے سیاسی کارکنوں اور شہریوں سے خطاب کیا۔ کراچی سے شروع ہونے والے اس قافلے کی سربراہی علی احمد کرد کر رہے ہیں۔ وکلاء کے ساتھ اس قافلے میں شریک پاکستان مسلم لیگ (نون) کے کارکنوں کی قیادت سابق گورنر سندھ ممننوں حسین جبکہ جماعت اسلامی کے کارکن صوبائی امیر اسد اللہ بھٹو کے ہمراہ اس قافلے میں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کے علاوہ سندھ قوم پرست جماعت سندھی عوامی تحریک کے کارکن بھی قافلے کے ساتھ چل رہے ہیں۔
کراچی سے روانہ ہو کر گھوٹکی تک پہنچنے والا یہ قافلے میں شرکاء کی تعداد ہزاروں تک نہیں پہنچ سکی تھی اور توقع ہے کہ پنجاب پہنچنے پر اس میں بڑی تعداد میں وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عام شہری شامل ہوں گے۔ ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لانگ مارچ کے پیش نظر انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے پیر کو شاہراہ دستور کو جس پر ایوان صدر سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ جیسی انتہائی اہم عمارتیں واقع ہیں خار دار تاروں کے ذریعے سیل کر دیا تھا جبکہ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر کنٹینر کھڑے کر کے راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ وکلاء کا اسلام آباد آمد پر خیر مقدم کرے گی اور ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی کرے گی۔ وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت مارچ کی مزاحمت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے لیے وہ وکیل رہنما اطہر من اللہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ | اسی بارے میں ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ سکھر سے ملتان روانہ ہوگا10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان لاہور: معزول ججوں کو تنخواہ مل گئی09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||