BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 June, 2008, 01:28 GMT 06:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لانگ مارچ سکھر سے ملتان روانہ ہوگا
لانگ مارچ کے شرکاء
پورے سندھ میں دباؤ ہے، لاؤڈ سپیکر کی بھی اجازت نہیں: وکیل رہنماء
معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا لانگ پیر کے روز سکھر سے ملتان کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔ کوئٹہ اور کراچی سے آئے ہوئے وکلاء کے وفود نے رات سکھر میں قیام کیا اور اپنی تقاریر میں ججوں کی بحالی اور صدر کےمواخذےکامطالبے کیا۔

لانگ میں شریک ہونے کے لیے وکلاء رات گئے سکھر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ قافلوں میں خواتین بھی شریک تھیں۔

کم پذیرائی کیوں؟
 سندھ میں لانگ مارچ میں زیادہ جوش نظر نہیں آیا۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پیپلزپارٹی کی غیر اعلانیہ مخالفت سمجھتے ہیں۔ سندھ کے وزیر قانون ایاز سومرو لاڑکانہ بار کے صدر ہیں۔ اسی طرح دیگر سرگرم وکلاء رہنماوں کو سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں لانگ مارچ کو توقع سے کچھ پذیرائی حاصل ہوئی
نمائندہ بی بی سی نامہ نگار نثار کھوکر
سکھر پہنچنے والے وکلاء کے وفود کے ساتھ جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور لیبر پارٹی کے کارکن بھی شریک تھے۔ جبکہ پیپلزپارٹی سے وابستہ وکلاء اس لانگ مارچ میں شریک نہ تھے۔

سکھر بار ایسوسی ایشن کے صدر شبیر شر نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان سے تقریباً آٹھ سو سے ایک ہزار تک وکیل سکھر پہنچے ہیں۔ وکلاء کی کم تعداد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شدید گرمی ایک بڑی وجہ ہے، لیکن پھر بھی سکھر میں شرکاء کی تعداد ان کی توقعات کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا وہاں درجہ حرارت پچاس ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ ہے۔

انہوں نے گہما گہمی نہ ہونے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پورے شہر میں دیکھا جا سکتا ہے اور خاص طور پر ہائی کورٹ کے قریبی علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں داخلے کے بعد وکلاء کا زبردست استقبال ہوا اور ان پر پھول پھینکے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سکھر سے روانے ہونے والے وکلاء کی تعداد ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو تک ہوگی اور سول سوسائٹی کے ارکان اور دیگر طبقات کی شمولیت کے بعد یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب کی چھوٹی بار میں بھی وکلاء کی تعداد سات آٹھ سو تک ہوتی جو سندھ کے مقابلے میں زیادہ اس لیے آگے بڑھتے ہوئے لانگ مارچ کے شرکاء میں اضافہ ہوگا۔

لانگ مارچ کے شرکاء
 سکھر سے روانے ہونے والے وکلاء کی تعداد ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو تک ہوگی اور سول سوسائٹی کے ارکان اور دیگر طبقات کی شمولیت کے بعد یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب کی چھوٹی بار میں بھی وکلاء کی تعداد سات آٹھ سو تک ہوتی جو سندھ کے مقابلے میں زیادہ اس لیے آگے بڑھتے ہوئے لانگ مارچ کے شرکاء میں اضافہ ہوگا
صدر سکھر بار شبیر شر
سکھر میں وکلاء کے میزبان اور سینیئر وکیل امداد اعوان نے کہا کہ وہ ایک آزاد ماحول تھا اور ہم پر دباؤ نہیں تھا لیکن اس بار پورے سندھ میں دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ کی طرف سے دباؤ ہے اور انہیں لاؤڈ سپیکر لگانے کی بھی اجازت نہیں۔ ’ہم اپنی آواز کے زور پر چل رہے ہیں‘۔

امداد اعوان نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی نے برف تک نہیں دی اور وہ اپنے زور پر چل رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر نے بتایا کہ معزول ججوں کی بحالی کے لیے سندھ میں لانگ مارچ میں زیادہ جوش نظر نہیں آیا۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پیپلزپارٹی کی غیر اعلانیہ مخالفت سمجھتے ہیں۔ سندھ کے وزیر قانون ایاز سومرو لاڑکانہ بار کے صدر ہیں۔ اسی طرح دیگر سرگرم وکلاء رہنماوں کو سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں لانگ مارچ کو توقع سے کچھ کم پذیرائی حاصل ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد