BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ

مسلم لیگ کے رہنماء جاوید ہاشمی
’جوکہتے ہیں کہ وہ وکلاء کے دباؤ نہیں آئیں گے وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ جمہوریت کا مطلب ہے کہ عوامی رائےکےسامنےسرنڈر کیاجائے‘
پاکستان بارکونسل کے فیصلہ کی روشنی میں ملک بھر کے وکلاء نے جمعرات کو اپنے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس بھی نکالے۔ وکلاء کے جلوسوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نےلاہور میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمان نے عوام اور سول سوسائٹی کی آواز اور قربانیوں کو نظرانداز کیا تو پانچ سال یا پانچ ماہ تو دور کی بات ہے یہ پارلیمان پانچ دن تک قائم نہیں رہ سکے گی۔

جاوید ہاشمی معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور کی ضلع بار ایسوسی ایشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے بعد پنجاب اسمبلی تک وکلاء کے جلوس کی قیادت بھی کی۔

نئے اور پرانے جج
 پرانے اور نئے ججوں کو ملا کر عدلیہ کو بحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کو بھی این آر او کے ذریعے بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایک آمر کے فیصلے کو اپنے پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار نہیں ہے اور عدلیہ کو بحال نہ کراسکی تو پھر صدر پرویز مشرف کو یہ حق ہے کہ وہ اس پارلیمان کو اپنے پاؤں کے جوتے تلے روند ڈالے
جاوید ہاشمی
ادھر کراچی میں وکلاء نےہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منقعد کیے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدرجسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے ججوں کی بحالی میں تاخیر کی مذمت کی اور واضح کیا کہ اگر بارہ مئی کو جج بحال نہیں ہوئے تو وکلاء طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ اس موقع پر بارہ مئی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ۔

جاوید ہاشمی نے خطاب میں کہا کہ پرانے اور نئے ججوں کو ملا کر عدلیہ کو بحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کو بھی این آر او کے ذریعے بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایک آمر کے فیصلے کو اپنے پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار نہیں ہے اور عدلیہ کو بحال نہ کراسکی تو پھر صدر پرویز مشرف کو یہ حق ہے کہ وہ اس پارلیمان کو اپنے پاؤں کے جوتے تلے روند ڈالے۔

لاہور میں وکلاء کا احتجاج

جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ وکلاء کے دباؤ نہیں آئیں گے وہ لوگ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ان کے بقول جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ عوام کی رائے کے سامنے سرنڈر کیا جائے۔

لاہور کی ضلع بار کے اجلاس میں بارہ مئی کو عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے اور یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

جاوید ہاشمی کے خطاب کے بعد لاہور کے وکلاءنے ایوان عدل سے ایک جلوس نکالا جس میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور خاکسار تحریک کے کارکنوں نے اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شرکت کی۔

پیدل قافلہ
 لاہور بار کے منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سرا نے وکلاء نے نو رکنی پیدل قافلے کو بھی روانہ کیا جو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے لاہور سے اسلام آباد میں پیدل سفر کرے گا۔ نو رکنی قافلہ میں سول سوسائٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ نو رکنی قافلہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔
پنجاب اسمبلی کے سامنے وکلا رہمنا حامد خان کے خطاب کے بعد وکلا پرامن طور پر منتشتر ہوگئے۔

اس موقع پر لاہور بار کے منظور قادر اور سیکرٹری لطیف سرا نے وکلاء نے نو رکنی پیدل قافلے کو بھی روانہ کیا جو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے لاہور سے اسلام آباد میں پیدل سفر کرے گا۔ نو رکنی قافلہ میں سول سوسائٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ نو رکنی قافلہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

ادھرصوبہ سرحد میں بھی وکلا نے اعلیْ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ۔پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ججوں کی بحالی کے لیے قائم کمیٹی کے پاس صرف برطرف ججوں کو ان کے عہدوں پر بحال کرنے کا مینڈیٹ ہے کہ پی سی او ججوں کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے اس لیے کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہ کرے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بارہ مئی کو صوبہ سرحد میں وکلا یوم شہدا منائیں گے اور اگر اس دن برطرف ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔

بلوچستان میں بھی ہفتہ وار احتجاج کے سسلسلہ میں وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ضلع کہچری سے وکلا نے ایک ریلی نکالی جو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے ججوں کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منشتر ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد