ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے لیے وکلا نے جمعرات کو ملک گیر سطح پر ہفتہ وار احتجاج کیا۔ پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی روشنی میں وکیلوں نےمکمل ہڑتال کی اور جلوس نکالے۔ وکلا کے احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے کارکن، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ بھی شامل ہوئے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ۔لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاسوس کے بعد وکلا نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جو پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوا
وکلا کا جلوس ایوان عدل سے شروع ہوا اور جب یہ جلوس جی پی او چوک میں پہنچا تو اس میں ہائیکورٹ بار کے وکلا بھی شامل ہوگئے۔جلوس میں سول سوسائٹی کے ارکان کے علاوہ جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور خاکسار تحریک کے کارکن بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے چیف جسٹس کو بحال کرو،آئینی پیکج نامنظور اور مائنس ون نامنظور کے نعرے لگائے۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ میں الٹی یا سیدھی گنتی نہیں مانتا یہ بات قوم سےکیے گئے وعدہ کے خلاف ورزی ہے۔ان کاکہناہے کہ چاہے گنتی سیدھی کرلیں یا الٹی تیس اپریل کو گنتی مکمل ہورہی ہے۔ان کے بقول سیاسی جماعتوں نے اعلان مری میں تیس دنوں کا وعدہ کیا ہے اور سیاسی جماعتیں اس وعدے سے آگے نہیں جاسکتیں۔ حامد خان نے چیف جسٹس کی معیاد عہدہ مقرر کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کردیا۔ اس موقع پر لاہور بار کے صدر منظور قادر نے آصف زرداری کے اس بیاں کا خیر مقدم کیا آمریت کے ساتھ دینے والے ججوں کو الٹا لٹکادیا جائے گا۔
وکلا اپنے رہنماؤں کے خطاب کے بعد پرامن طور منتشر ہوگئے۔ ادھر کراچی میں وکلا نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی اجلاس منقعد کئے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر اے ملک نے سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کا کسی آئینی پیکج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آئینی پیکج کےبارے میں ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس ترمیم کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔ان کے بقول کسی بند کمرے میں آئینی پیکج نہیں بنتا۔ منیر اے ملک نے کہا کہ آئینی ترمیم پر پارلیمنٹ بحث کرے جبکہ عوام بھی اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور وکلا کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے۔ پشاور میں بھی وکلا نے ہڑتال کی اور پشاور ہائیکورٹ کی عمارت میں ہونے والے احتجاجی اجلاس میں ہوا جبکہ کوئٹہ میں وکلا نے عدالتوں میں پیش نہ ہوکر ہفتہ وار احتجاج میں حصہ لیا۔ | اسی بارے میں کراچی کے واقعات پر وکلاء احتجاج11 April, 2008 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ بار کا احتجاج17 April, 2008 | پاکستان ’راولپنڈی سے انتخاب لڑوں گا‘19 April, 2008 | پاکستان بحالی کی قرارداد، وکلاء کی ڈیڈلائن 19 April, 2008 | پاکستان 3 مئی کولائحہ عمل بتائیں گے، وکلاء22 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||