سابق سفیر لانگ مارچ کے حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیس سابق سفیروں نے صدر مملکت پرویز مشرف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے وکلا کے لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا اعلان ان سابق سفیروں کے نمائندوں نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ صدر مشرف کے ساتھ سیکرٹری خارجہ کے طور پر کام کرنے والے سابق سفیر ریاض کھوکھر اور سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے ان سابق سفیروں کی نمائندگی کرتے ہوئے آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی بحالی کو مسترد کیا اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ وہ تین نومبر کو معزول قرار دیئے گئے ججوں کی بحالی کے لئے انتظامی حکمنامہ جاری کریں۔ ان سابق سفارتکاروں کا کہنا تھا انہوں نے وکلاء کے اس احتجاج میں شمولیت کا فیصلہ ججوں کو اعلان مری کے مطابق بحال کرنے میں حکومت کی ناکامی کے بعد کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت تین ماہ گزر جانے کے باوجود اس اہم قومی مسئلے پر فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے تیس سفارتکاروں کی جانب سے دستخط کردہ تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ حکومت فی الفور ان معزول ججوں کو بحال کرنے کا حکم نامہ جاری کرے ’ کیونکہ پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ آئینی پیکج ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے سابق سیکرٹری جنرل اور حالیہ دنوں تک مسلم لیگ ق کے رکن اکرم ذکی نے کہا کہ وزیراعظم نے جس طرح مشرف دور میں قید کئے گئے ججوں کو آزاد کرنے کا حکم جاری کیا تھا اسی طرح انہیں اپنے عہدوں پر کام جاری رکھنے کا بھی حکم جاری کرنا چاہیے تھا۔ اکرم ذکی نے کہا کہ نیپال جیسے چھوٹے سے ملک میں ڈھائی سو سالہ بادشاہت کا خاتمہ پارلیمنٹ کی قرارداد سے ممکن ہے تو یہاں ججوں کو بھی ایک قرارداد کے ذریعے بحال کیا جا سکتا ہے۔ اکرم ذکی نے وضاحت کی کہ انہوں نے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ق کو نو مارچ دو ہزار سات کے روز ہی چھوڑ دیا تھا جب صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد نے کہا جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو عدلیہ پر جو شب خون مارا اسکا مداوا ان قابل احترام ججوں کی بحالی ہی سے ممکن ہے۔’ ہم کسی بھی ایسے آئینی پیکج کو مسترد کرتے ہیں جسکے ذریعے تین نومبر کے روز جنرل پرویز مشرف کی آئینی خلاف ورزیوں کو آئینی تحفظ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘ پریس کانفرنس میں مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شمشاد احمد نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا کرسی صدارت پر مزید رہنا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔اور سابق سفیروں کا یہ گروپ اس عوامی مطالبے کی حمایت کرتا ہے کہ صدر مشرف مستعفی ہو جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان شمشاد احمد نے کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کی انکوائری اقوام متحدہ سے کروانا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اور اس سے متعلقہ دیگر اداروں میں پاکستان کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں اور یہ انکوائری چونکہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایجنڈے کے تحت ہی ممکن ہے۔ لہذا اس صورت میں جب اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کو پاکستان کے ہر ممنوعہ علاقے میں جانے اور کسی بھی شخص کو شامل تفتیش کرنے کا اختیار مل جائے گا تو پاکستان مخالف قوتوں کو اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ | اسی بارے میں وکلاء لانگ مارچ، آغاز اب سکھر سے06 June, 2008 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ 08 May, 2008 | پاکستان فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان مستعفی نہیں ہوں گا: پرویز مشرف 07 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||