مستعفی نہیں ہوں گا: پرویز مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت مزاحمت کا نہیں مفاہمت کا ہے۔ سنیچر کو ایوان صدر میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آئین میں ترمیم کرکے اُن کے اختیارات میں کمی کی گئی تو وہ بیکار نہیں بیٹھیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچیں گے کہ وہ اپنا آئینی کردار کب تک ادا کریں گے۔ صدر مشرف نے جو تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے بعد پہلی بار میڈیا کے نمائندوں سے کھل کر بات کر رہے تھے، کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اُن کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اُسے قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے مواخذے کے بارے میں آئین میں طریقۂ کار موجود ہے۔ صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور وہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ایوان صدر میں سازشیں ہو رہی ہیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ وہ غیر متوازن آدمی نہیں ہیں کہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال کرکے ملک میں ایک اور بحران پیدا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر مستحکم پاکستان کی صدارت قبول نہیں کر سکتے۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں مایوسی ہوئی ہے تاہم انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ یہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔
پرویز مشرف نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے اور وہ کہیں نہیں جا رہے۔ تین نومبر کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی اور اعلی عدالتوں کے ساٹھ ججوں کو برطرف کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تین نومبر کو اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ انہوں نے صرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو برطرف کیا تھا جبکہ باقی ساٹھ ججوں نے خود ہی پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کو گھروں میں نظر بند نہیں کیا گیا تھا تاہم انہوں نے ججز کالونی میں عام آدمی کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججز اب جج نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے پارلیمنٹ جو فیصلہ کرے گی وہ اُسے قبول کریں گے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ بلوچستان میں موجود خطرات سے ملک کو بچانا ہوگا۔ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان پر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بارے میں اُن سے بیان زبردستی لیا گیا تھا، صدر نے کہا کہ جھوٹ کا پلندہ ہے اوراُن کے اس اقدام کی وجہ سے ملکی وقار کو نقصان پہنچا ہے۔ سابق فوجی افسران کی طرف سے اُن پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ان افراد کی وجہ سے فوج کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سابق فوجی آفسران فوج کے قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور متعلقہ حکام کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ سابق فوجی افسروں کی تنظیمیں غیر سرکاری ہیں اور ان کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا صدر نے جواب نہیں دیا اور کہا کہ اس سے ایک اور ایشو کھڑا ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے ملک کسی خطرے سے دوچار نہ ہو۔
موجودہ حکومت کی طرف سے کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو ختم کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ بجلی کے بحران سے نکلنے کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سابق حکمراں جماعت اپنے دور اقتدار میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات نہیں کر سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||