BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 June, 2008, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیاسی کھلاڑیوں کے شخصی مفادات

زرداری
آصف زرداری کا سیاسی مستقبل اس ایجنڈے سے منسلک ہے جو بینظیر بھٹو پاکستان واپسی پر اپنے ساتھ لائی تھیں
آجکل میڈیا میں بہت واویلا ہے کہ جج بحال نہیں ہو رہے، صدر مشرف کا مواخذہ نہیں ہو رہا، دہشتگردی اور مختلف معاشی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں ہو رہی، یہ نہیں ہو رہا، وہ نہیں ہو رہا وغیرہ، وغیرہ۔

کمال یہ ہے کہ یہ بحث ایک ایسے وقت جاری ہے جب حکومتی جماعت ملکی تاریخ کی جامع ترین آئینی ترامیم لانے کے لیے کوشاں ہے۔

سیاسی طور پر ان ترامیم پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کے ذریعے معزول ججوں کی بحالی صدر مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کی بلا واسطہ توثیق ہو گی۔ لیکن اس امر سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ اگر حکومتی جماعت کی مجوزہ آئینی ترامیم تھوڑی بہت لین دین کے بعد منظور ہو جاتی ہیں تو ان کے نتیجے میں موجودہ منتخب حکومت انیس سو تہتر کے آئین کے تحت قائم ہونے والی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے اگر زیادہ نہیں بھی تو اتنی ہی طاقتور اور با اختیار ضرور ہو جائے گی۔

کیا سب پاکستانی یہی نہیں چاہتے کہ ان کی منتخب کردہ حکومت مقتدر ہو؟ کیا ملک بھر میں ڈیڑھ برس سے جاری صدر مخالف تحریک کا بھی بنیادی مقصد آمریت کا خاتمہ نہیں؟ کیا میاں نواز شریف اور وکلاء برادری کا اس بات پر اصرار کہ معزول جج ایک پارلیمانی قرارداد یا ایگزیکیٹیو آرڈر کے ذریعے بحال کیے جائیں عوامی طاقت کی سیاسی بالادستی کی خواہش نہیں؟ اور کیا یہ ترامیم ان سب سوالوں کا جواب نہیں؟

اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی تو معزول ججوں کی بحالی کو آئینی ترامیم سے نتھی کرنے پر آمادہ نہیں تو کوئی لانگ مارچ کا ڈھنڈورا پیٹے جا رہا ہے؟

اس کی بنیادی وجہ شاید پاکستان میں ساٹھ سال سے جاری شخصی سیاست کی روایت ہے۔ لگتا یوں ہے کہ مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکیج تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کے زیادہ تر سیاسی رہنما اپنی اپنی سیاست کے گھن چکر میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ اب اس سے نکلنے میں کسی کو اپنی ناک کٹ جانے کا خطرہ ہے تو کسی کو اپنی ذاتی سیاست ڈھیر ہوتی نظر آتی ہے۔

News image
 اگر میاں نواز شریف واقعی آئین کو روندنے والوں کو سزا دینے میں مخلص ہوتے تو وہ صرف صدر مشرف کے ہی نہیں بلکہ انیس سو ننانوے کی ساری عسکری قیادت کے احتساب کی بات کرتے۔ لیکن جہاں صدر مشرف پر آئین سے غداری کے مقدمے کی بات روزانہ ہو رہی ہے وہاں اس وقت کے دوسرے باغی جرنیلوں کا نام ایک دفعہ بھی نہیں لیا گیا

اگر کسی نہ کسی طرح پاکستان کے سیاسی رہنما اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی دلدل سے نکل آئیں تو یہ کہنا بعید از قیاس نہ ہو گا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام کا مستقبل جتنا روشن آج ہے اتنا شاید ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں کبھی نہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایسا کر پائیں گے؟

مجوزہ آئینی ترامیم کی بساط پر باوردی مہرے تو فی الحال کہیں کونے کھدروں میں دبکے ہوئے ہیں جبکہ نظر آنے والے اہم ترین مہروں میں آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور صدر پرویز مشرف سر فہرست ہیں۔ ذرا ان کی ذاتی سیاست پر فرداً فرداً نظر ڈالیے۔

بینظیر بھٹو کی زندگی میں آصف علی زرداری کا مقدر یا تو وزیر اعظم کا گھر تھا یا جیل۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کا اپنا کہنا ہے کہ بینظیر انہیں اپنی قبر سے باندھ گئی ہیں۔ اس بیان کی سیاسی تشریح شاید کچھ یوں ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل اس ایجنڈے سے منسلک ہے جو بینظیر بھٹو پاکستان واپسی پر اپنے ساتھ لائی تھیں۔

بینظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے بعد تجزیہ کاروں میں یہ اتفاق رائے پایا جاتا تھا کہ ان کے نئے سیاسی ایجنڈے کو افواج پاکستان سمیت ملک کے مختلف ریاستی اداروں اور امریکی پالیسی سازوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس ایجنڈے کے مطابق سیاسی اور ریاستی اداروں کے بیچ سالہا سال سے جاری تصادم اور کشمکش کی صورتحال کو ختم کر کے قومی مفاہمت کا ایک ایسا پل تعمیر کیا جانا تھا جس پر سے ایک غیر مقبول صدر، ایک منتخب وزیر اعظم اور ایک طاقتور آرمی چیف اکٹھے گزر کر اپنے اجتماعی ماضی کو پیچھے چھوڑ سکیں۔

بینظیر بھٹو پاکستان واپسی کے بعد انتہائی پر امید تھیں کہ وہ ملکی سیاست میں ایسے پل کا کردار بخوبی ادا کر لیں گی۔ لیکن ان کی ہلاکت کے بعد جب یہ ذمہ داری آصف علی زرداری پر آن پڑی تو صورتحال یکسر بدلی ہوئی نظر آئی۔

 اگر کسی نہ کسی طرح پاکستان کے سیاسی رہنما اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی دلدل سے نکل آئیں تو یہ کہنا بعید از قیاس نہ ہو گا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام کا مستقبل جتنا روشن آج ہے اتنا شاید ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں کبھی نہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایسا کر پائیں گے؟

آصف علی زرداری پاکستانی سیاست کی ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر قانون کا صدیوں پرانا اصول کہ ہر کوئی معصوم ہے جب تک کہ اس کا گناہ ثابت نہ ہو جائے لاگو نہیں ہوتا۔ پچھلے بیس برسوں میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں اور اہم ریاستی اداروں نے کروڑوں روپیہ صرف اس کاوش پر خرچ کر ڈالا کہ آصف زرداری پر جو بھی الزام لگے وہ عدالت میں ثابت ہو نہ ہو لیکن لوگوں کے دلوں میں ضرور ثبت ہو جائے۔

نتیجتاً پاکستان پیپلز پارٹی کی کمان تھامنے تک آصف علی زرداری اس قدر متنازعہ شخصیت بن چکے تھے کہ ان کے مخالفین کو ان کی نماز میں بھی کھوٹ نظر آنے لگا۔ لہٰذا جہاں بینظیر بھٹو کے لیے یہ ممکن تھا کے وہ قومی مفاہمتی آرڈیننس سے مستفید ہونے کے باوجود بھی عوام سمیت مختلف سیاسی دھڑوں کو قومی مفاہمتی ایجنڈے پر مائل کر لیں، وہاں آصف زرداری کا مفاہمت کی جانب بڑھتا ہوا ہر قدم مختلف سیاسی دھڑوں میں نئے خدشات ابھارتا ہے۔

اگر ایک لمحہ آصف زرداری کی شخصیت کو بھول کر ان کے سیاسی ایجنڈے کو مجوزہ آئینی ترامیم کے آئینے میں دیکھا جائے تو ان ترامیم کے محرکات پر اٹھائے جانے والے زیادہ تر اعتراضات خود بخود ہی دم توڑ جائیں گے۔ لیکن جب تک تجزیہ کار ان کے ہر قدم کو ان کی شخصیت کے ترازو میں ہی تولنے پر مصر ہیں تو پھر کسی بھی کام میں ان کی عجلت آمرانہ قوت کے حصول کی خواہش اور تاخیر موقع پرستی ہی قرار پائے گی۔

 جب تک تجزیہ کار آصف زرداری کے ہر قدم کو ان کی شخصیت کے ترازو میں ہی تولنے پر مصر ہیں تو پھر کسی بھی کام میں ان کی عجلت آمرانہ قوت کے حصول کی خواہش اور تاخیر موقع پرستی ہی قرار پائے گی

اس پس منظر میں آصف علی زرداری کی سب سے بڑی سیاسی مجبوری یہ ہے کہ اگر وہ بینظیر بھٹو کے مفاہمتی ایجنڈے سے ہٹتے ہیں تو اس ایجنڈے کے مقتدر حمایتی و خالق نہ تو حکومت ان کے ہاتھ میں رہنے دیں گے اور نہ ہی پارٹی کی سربراہی۔

دوسری طرف میاں نواز شریف بھی اپنی ذات کی محور سیاست کے اتنے ہی بڑے قیدی ہیں جتنے آصف علی زرداری۔ انہیں سنہ دو ہزار میں صدر مشرف کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ملک چھوڑنے کی کالک دھونے کا واحد راستہ یہ نظر آ رہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے مواخذے اور ان پر غداری کے مقدمے کی تحریک چلائیں۔

حال ہی میں ان کی طرف سے ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ اگر ججوں کی بحالی اور صدر مشرف کے ٹرائل میں سے انہیں فیصلہ کرنا ہو کہ پہلے کیا کیا جائے تو شاید فی الوقت وہ صدر کے احتساب کو ججوں کی بحالی پر ترجیح دیں۔

اسی وجہ سے وہ ججوں کی بحالی کو کسی آئینی ترمیم سے نتھی کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے میں انہیں صدر مشرف کے پچھلے سال تین نومبر کے اقدامات کو تحفظ مل جانے کا خطرہ دکھائی دیتا ہے۔

کچھ تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ اگر میاں نواز شریف واقعی آئین کو روندنے والوں کو سزا دینے میں مخلص ہوتے تو وہ صرف صدر مشرف کے ہی نہیں بلکہ انیس سو ننانوے کی ساری عسکری قیادت کے احتساب کی بات کرتے۔ لیکن جہاں صدر مشرف پر آئین سے غداری کے مقدمے کی بات روزانہ ہو رہی ہے وہاں اس وقت کے دوسرے باغی جرنیلوں کا نام ایک دفعہ بھی نہیں لیا گیا۔ شاید اسی وجہ سے ان کا صدر مشرف کے بارے میں مؤقف سیاسی سے زیادہ ذاتی نظر آنے لگا ہے۔

رہی بات صدر مشرف کی تو وہ اگر زیادہ تر معزول ججوں کی بحالی پر آمادہ ہو بھی جائیں تو بھی کسی صورت چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی پر رضامند نظر نہیں آتے۔ اور جب تک آئین میں صدارتی اختیارات کا پلڑا حکومتی اختیارات پر بھاری ہے ان پر سیاسی دھونس دھاندلی بھی چلتی نظر نہیں آتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق وہ اپنے زیادہ تر اختیارات بھی چھوڑنے کو تیار ہیں بشرطیکہ جسٹس چوہدری کو بحال نہ کیا جائے۔

گویا یہاں بھی بات شخصی انا پر ہی ختم ہوتی ہے۔

اب اگر کوئی معجزہ ہو جائے اور یہ تمام سیاسی کھلاڑی اپنے شخصی مفادات چھوڑ کر قومی مفاہمتی ایجنڈے پر متفق ہو جائیں تو پھر گلی گلی پستے ہوئے عام آدمی کو شاید جان ایلیا کا یہ شعر پڑنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہو کہ:

وہ شور حشر ہے اس کی گلی میں
میری فریاد ماری جا رہی ہے

صدر مشرفججز کی بحالی
صدر مشرف کا اہم اجلاس
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟ججز کی بحالی
حکم نامہ، قرارداد یا اسمبلی کی تحلیل؟
جسٹس طارق پرویز ’فورا بحال کریں ‘
پارلیمنٹ فوری طور پر ججوں کو بحال کرے
اسی بارے میں
لگے رہو صدر صاحب۔۔۔۔
27 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد