لگے رہو صدر صاحب۔۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے لندن میں نیوز بریفنگ میں کہا کہ انہوں نے اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی ہے۔ صدر صاحب آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ حزب مخالف والے خواہ مخواہ شور مچاتے ہیں۔ دیکھیے آپ نے سولہ کروڑ پاکستانیوں میں سے چن چن کر انتہائی غیر سیاسی، غیر جانبدار اور ایماندار افراد پر مشتمل نگران حکومتیں بنائیں۔ عابد حسن منٹو سمیت بیشتر آئینی اور قانونی ماہرین بھی غلط کہہ رہے ہیں کہ مسخ شدہ موجودہ آئین میں بھی حاضر سروس سینیٹ چئرمین کو نگران وزیراعظم نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ماہرین آپ کی غیرموجودگی میں قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین کے نگران صدر بننے کو بھی غیر آئینی کہہ رہے ہیں۔ نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ اگر ان کا غلطی سے مسلم لیگ (ق) سے تعلق ہے تو کیا ہوا۔ اگر وہ اپنی بہن کو اسلام آباد اور بھانجے کوگوجرانوالہ سے بلا کر صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد سے انتخاب لڑوا رہے ہیں تو کیا ہوا۔ پورے ملک میں ضلع ناظمین کے عزیز و اقارب بھی تو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں نا۔
دیکھیں نہ صدر صاحب یہ اپوزیشن والے ویسے ہی کہہ رہے کہ ضلع ناظمین سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے عزیزوں کو جتوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بھلا کون اپنوں کو چھوڑ سکتا ہے؟ صدر صاحب یہ مغرب والے بھی کیا لوگ ہیں، خواہ مخواہ ہاتھ دھو کر آپ کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اتنا دور بیٹھ کر کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت ہونی چاہیے، انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے، شہری آزادیاں ہوں اور میڈیا آزاد ہو۔ آپ صحیح کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم تو اس کے لائق ہی نہیں ہے۔ دیکھیے نہ آپ نے انتخابات سے بہت پہلے ہی ایمرجنسی نافذ کر کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت بیشتر ججوں کو برطرف کر دیا، میڈیا پر پابندیاں لگائیں، چینل بند کیے۔ آپ صحیح کہہ رہے کہ قومی مفاد میں آپ کو ایسا کرنا پڑا۔ یہ صحافی، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اور مغربی دنیا کیا جانیں کہ قومی مفاد کیا ہے؟ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کا صدر رہنا ملک اور قوم کے مفاد میں کتنا ضروری ہے؟۔ یہ دستور وستور کیا چیز ہے، یہ تو مہذب لوگوں کے معاملات ہوتے ہیں، آپ نے بالکل زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اُسے دوبار معطل کیا اور قومی مفاد کے تقاضے کے عین مطابق اس میں ترمیم کر کے آپ نے آرمی چیف رہتے ہوئے صدر بننے کو جائز قرار دیا۔ دیکھیے نہ پہلے کتنے عہدے تھے آپ کے پاس اب صرف صدارت ہی تو بچی ہے۔ یہ لوگ پھر بھی آپ کے اس ٹرانزیشن کے عمل پر شک کرتے ہیں۔ دیکھیے نہ حزب مخالف والے کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آزاد نہیں ہے اور کچھ نہیں کر رہا۔ آپ بتائیں کہ صوبہ سندھ کے پولیس انسپکٹر جنرل کے عہدے سے میجر (ر) ضیاالحسن کو الیکشن کمیشن کی بروقت مداخلت پر کیسے ہٹایا گیا۔ صدر صاحب ان کا ہٹنا ضروری تھا کیونکہ ان کا بیٹا پنجاب سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا تھا۔ آپ قوم کو بتائیں کہ پنجاب کے چیف سیکریٹری کا بیٹا اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کا بھائی پنجاب سے ہی الیکشن لڑ رہے ہیں، انہیں کسی نے بھلا ہٹایا؟۔ کیوں بھئی انہیں ہٹایا جائے وہ تو مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں نا۔ یہ لوگ تو ویسے ہی شور مچاتے ہیں انہیں اصل میں قومی مفاد کا پتہ نہیں ہے۔ صدر صاحب قوم کو سمجھانے کے لیے اتنی باتیں بہت ہیں ورنہ تو میرے پاس اس طرح کے واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ چھوڑیے ان کو آپ اس سندھی کہاوت پر عمل کریں ’فقیر مانگتا رہے، کُتا بھونکتا رہے‘۔ |
اسی بارے میں برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان ’مشرف وردی میں منتخب ہونگے‘13 June, 2006 | پاکستان مشرف کا انتخاب، انتخابات سے پہلے13 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||