BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی پیکج:شہباز، زرداری ملاقات

 آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات
ملاقات کے دوران مجوزہ آئینی پیکِج اور صدر کےممکنہ مواخذے پر بات ہوگی
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے درمیان آئینی پیکج کے حوالے سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔

پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اس ملاقات میں میاں شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار اور خواجہ آصف بھی شریک ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنما ججوں کی بحالی، مجوزہ آئینی پیکِج ، صدر کے ممکنہ مواخذے اور آئندہ بجٹ پر بات چیت کی۔واضح رہے کہ چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر تاحال اختلاف رائے موجود ہے۔

پیپلز پارٹی آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی بحالی چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بضد ہے کہ اعلانِ بھوربن کے مطابق انتظامی حکم جاری کرکے ججوں کو بحال کیا جائے۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکج پر غور کے لیے آج مسلم لیگ (ن) کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔

 معزول ججوں کی بحالی آئینی ترمیم کے ذریعے ہوگی اور معزول ججوں کو وہی سینیارٹی دی جائےگی جو ان کو تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو حاصل تھی
فاروق نائیک

صدیق الفاروق کے مطابق راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی کا منگل کو پہلا اجلاس پنجاب ہاؤس میں ہوا اور آئندہ دو تین دن اس پر مزید اجلاس ہوں گے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) آئینی پیکج پر اپنی رائے ظاہر کرے گی۔

کمیٹی میں جاوید ہاشمی، چوہدری نثار علی خان، اسحٰق ڈار خواجہ آصف، احسن اقبال اور خواجہ حارث ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر اے کے زیڈ شیر دل خدمات انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آئینی پیکِج کا مسودہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اتوار کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے رائیونڈ میں ملاقات کے دوران ان کے حوالے کیا تھا۔

نوازشریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ معزول ججوں کی بحالی آئینی ترمیم کے ذریعے ہوگی اور معزول ججوں کو وہی سینیارٹی دی جائےگی جو ان کو تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو حاصل تھی۔

فاروق نائیک نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کی معیاد کے سوال پر کہا تھا کہ اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس معاملے پر اتحادی جماعتوں کےسربراہان کی ملاقات میں فیصلہ ہوگا۔

آئینی پیکج کب؟
بجٹ اجلاس سے قبل پیکج کی منظوری مشکل
غداری کا مقدمہ
مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا: نواز
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
بش اور مشرفمشرف کی حمایت
صدر مشرف کا کردار جاری رہے گا: جارج بُش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد