آئینی پیکج بجٹ کے بعد اسمبلی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آئینی پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے اور آئینی پیکج بجٹ کے بعد پارلیمان میں پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے منگل کو زرداری ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں میاں شہباز شریف کی معاونت اسحاق ڈار اور خواجہ آصف جبکہ آصف علی زرداری کی معاونت سید نوید قمر اور شیری رحمٰن نے کی۔ ملاقات ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا وفد میڈیا سے بات کیے بنا روانہ ہوگیا لیکن پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ فریقین میں آئینی پیکج بجٹ کے بعد پارلیمان میں پیش کرنے اور اُسے حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں آصف علی زرداری نے میاں شہباز شریف کو پنجاب اسمبلی کا بلا مقابلہ رکن منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں وزیراعلیٰ بننے کے لیے اپنی جماعت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ رابطہ کرنے پر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ملاقات میں ججوں کی بحالی کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے مگر اس کی تفصیلات فی الحال بتانا مناسب نہیں۔ ایک سوال پر پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ججوں کی بحالی انہیں بجٹ تک ممکن نظر نہیں آرہی کیونکہ جو آئینی پیکیج ہے وہ بجٹ کے بعد ہی آنا ہے۔ بیان میں ججوں کی بحالی کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے کہ ان کا موقف واضح ہے کہ ججوں کو پارلیمان کی قرار داد کے ذریعے بحال کیا جائے۔ ان کے مطابق وہ اپنے موقف پر اب بھی قائم ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ واضح رہے کہ ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار کے بارے میں دونوں جماعتوں میں اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) نے مرکزی حکومت میں نو وزارتیں چھوڑ دی تھیں لیکن انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پیپلز پارٹی آئینی پیکج کے ذریعے ججوں کی بحالی چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) مصر ہے کہ اعلانِ بھوربن کے مطابق انتظامی حکم جاری کرکے ججوں کو بحال کیا جائے۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکج پر غور کے لیے آج مسلم لیگ (ن) کی جائزہ کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔ دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے ملنے والے آئینی پیکیج کا شق وار جائزہ لینے کے لیے ان کی جماعت نے راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔ جس کا پہلا اجلاس منگل کو پنجاب ہاؤس میں منعقد ہوا۔ مسلم لیگ کی جائزہ کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفرالحق نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیاسی نکات پر مبنی آئینی پیکیج کی بیشتر شقوں پر دونوں جماعتیں ہم خیال ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سفارشات جلد مرتب کرکے پیپلز پارٹی کو بھجوا دیں گے۔ مسلم لیگ کی جائزہ کمیٹی میں جاوید ہاشمی، چوہدری نثار علی خان، اسحٰق ڈار خواجہ آصف، احسن اقبال اور خواجہ حارث ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر اے کے زیڈ شیر دل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آئینی پیکِج کا مسودہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اتوار کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے رائیونڈ میں ملاقات کے دوران ان کے حوالے کیا تھا۔ |
اسی بارے میں شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان آئینی پیکج:شہباز، زرداری ملاقات 03 June, 2008 | پاکستان پیکج: مسودہ نواز شریف کے حوالے01 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان بحالی قرار داد کے ساتھ آئینی پیکج02 May, 2008 | پاکستان آئینی پیکج، بجٹ اجلاس سے پہلے مشکل20 May, 2008 | پاکستان باسٹھ نکاتی آئینی پیکج تیار: آصف23 May, 2008 | پاکستان آئینی پیکیج پر پی پی پی کا اجلاس24 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||