BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 June, 2008, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ

پرویز مشرف
’صدر مشرف نے قوم کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں‘
پاکستان میں سابق فوجیوں کی ایک تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام فوجی حکمرانوں کے خلاف جمہوریت پر شب خون مارنے پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور اس کا آغاز صدر پرویز مشرف کے مواخذے اور ان کے کورٹ مارشل سے ہونا چاہیے۔

سابق فوجیوں نے سابق صدر جنرل ایوب خان، ضیاءالحق، یحیٰی خان اور پرویز مشرف کو غداری کا مرتکب قرار دیا ہے۔

یہ مطالبہ سابق فوجی افسر کی تنظیم ’ایکس سروس مین ایسوسی ایشن‘ کے لاہور ریجن کے ایک اجلاس میں متفقہ قرارداد کے طور پر منظور کیا گیا۔

تقریب کے منتظم بریگیڈیئر یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میںں ستّر ، اسی ریٹائرڈ فوجی افسروں نے شرکت کی جن میں میجرجنرل (ر) صبیح الدین، میجرجنرل(ر) فصیح الدین بخاری، میجر جنرل (ر)احمد مشتاق طارق، میجر جنرل(ر) ضیاءاللہ خان، میجر جنرل (ر)سلیم ملک اورمیجر جنرل (ر) لطیف ملک سمیت دس ریٹائرڈ جنرل بھی شامل ہیں۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ریٹائرڈ میجر جنرل شفیق احمد نے کہا کہ صدر مشرف کے نو سالہ دور کے دوران پاکستان کو شدید نقصان پہنچا اور انہوں نے قوم کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے قوم سے زیادتی کی لیکن پھر بھی وہ اقتدارسے چمٹے ہوئے ہیں۔پوری قوم ان کے خلاف فیصلہ سنا چکی ہے اور اب ان کا کورٹ ماشل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج کل کے سیاستدان یہ مطالبہ تو کرتے ہیں کہ جو آئین کو توڑے اورحکومت پر قبضہ کرے اس پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے لیکن جو قاتل سامنے بیٹھا ہے،جس نے اسی جرم کا ارتکاب کیا،اس کے کورٹ مارشل اور مواخذے پر تیار نہیں ہوتے اور اس کی بجائے آئینی پیکج بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں نے اجلاس کےدوران سب سے زیادہ زور اسی بات پر دیا کہ حکومت کا پہلا کام صدرمشرف کا مواخذہ اور کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا۔

ریٹائرڈ فوجی افسروں نے مطالبہ کیا کہ ججوں کودو نومبر کی پوزیشن پر بحال کیا جائے البتہ یہ بحالی ایک انتظامی حکم کے ذریعے ہونی چاہیے اور اسے کسی آئینی پیکج کے ساتھ گڈمڈ نہ کیا جائے۔ ریٹائرڈ جنرل شفیق احمد نے کہا کہ اجلاس میں شریک ان کےساتھیوں نے عدلیہ بحالی کی تحریک چلانے پر وکلاء کو خراج تحسین پیش کیا اور عہد کیا کہ وہ تمام عدلیہ بحالی کے لیے ہونے والی لانگ مارچ میں ضرور شرکت کریں گے۔

سابق فوجیوں نے یحیٰی خان کو بھی غداری کا مرتکب قرار دیا

ریٹائرڈ میجر جنرل نے بتایا کہ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ فاٹا، سوات اور دیگر علاقوں میں پاکستان کی فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف امریکہ کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے اور وہاں سے فوجوں کو نکال لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ صدر مشرف کی کشمیر پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا مطالبہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

ریٹائرڈ میجر جنرل شفیق احمد نے کہا کہ سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان سے برابری کی سطح پر اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس کے لیےہندوستان کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔

سابق فوجیوں نے کہا کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو رہا کیا جائے اور ان سے قومی ہیرو کا سا سلوک روا رکھا جائے۔

فوج سے ریٹائر ہو جانے والے افسروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کو لوگوں کے اربوں روپے قرضے معاف کرنے یا ایسا قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے جس کے تحت مجرموں کے معاف کر دیا جائے۔ ریٹائرڈ جنرل شفیق احمد نے کہا کہ یہ فیصلےعدالت کو کرنے چاہیے جو مجرم ہو اسے سزا ملے اور بے گناہ کو چھوڑ دیا جائے۔

ریٹائرڈ جنرل شفیق احمد کے ہمراہ بریفنگ دینے والوں میں ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل خورشید عالم،بریگیڈئر انعام الحق اور بریگیڈئر یوسف بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد