BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 09:10 GMT 14:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارگل پر بے خبر رکھا گیا‘

’مشرف کے خلاف غداری کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے‘

مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کارگل آپریشن کی از سرِ نو تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سابق کور کمانڈر راولپنڈی کے بیان سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کارگل کے معاملے پر بطور وزیراعظم انہیں بے خبر رکھا گیا تھا۔

یہ بات انہوں نے لندن روانگی سے پہلے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے کہا کہ صدر پرویز مشرف انہیں کچھ اور فوج کو کچھ اور بتاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کا یہ کہنا بھی جھوٹ کا پلندہ تھا کہ انہوں نے یعنی نواز شریف نے کارگل کے محاذ پر ہتھیار ڈالنے کو کہا تھا۔

سابق وزیر اعظم نے یہ بات فوج کے سابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جمشید گلزار کیانی کی اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہی جو پیر کی شب پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل نے نشر کی تھی۔

سابق کور کمانڈر نے اس گفتگو میں کارگل کو ایک ناکام آپریشن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اس سے مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا حالانکہ انہیں ایک ایک لمحے کی بریفنگ دی جانی چاہیے تھی اور اس کے مضمرات سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔

انہو ں نے کہا پرویز مشرف نے جو کچھ بھی نو برس کے دوران کیا، جو کچھ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو کیا اور جو کچھ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو کیا ہے اس پر ان کے خلاف غداری کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کی پوزیشن واضح ہوئی وہ سرخرو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نہ کسی دن سچ سامنے آہی جاتا ہے اور’ایک دن باطل مٹتا ہے اور سچ عیاں ہوتا ہے‘۔

 میں جب وزیراعظم تھا تو میں نے فوج کے تحفظ کے لیے اپنا فرض نبھاتے ہوئے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس کے بدلے میں جرنیلوں نے ہمارے ساتھ جو کیا وہ بھی قوم نے دیکھ لیا
نواز شریف

انہوں نے کہا کہ اصل میں انہوں نے کارگل کے موقع پر فوج کی عزت بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور امریکہ جا کر صدر کلنٹن سے ملے۔

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی عزت بچانے کے لے سارا بوجھ انہوں نے اپنے کندھوں پر لیا تھا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ’میں جب وزیراعظم تھا تو میں نے فوج کے تحفظ کے لیے اپنا فرض نبھاتے ہوئے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس کے بدلے میں جرنیلوں نے ہمارے ساتھ جو کیا وہ بھی قوم نے دیکھ لیا‘۔

میاں نواز شریف نے اپنے فعل کے لیے ’ نیکی کر دریا میں ڈال‘ کے الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ جواب میں جرنیلوں نے فوج کو ان کےگھروں میں بھجوا دیا اور فوج چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے دیواریں پھلانگ کر ان کے گھر میں گھس آئی،ان کے بوڑھے والدین سے بدسلوکی گئی۔

نواز شریف نے کہا کہ جس فوج کے لیے قوم نے خون پسینہ بہایا اور خود انہوں نے سارا الزام اپنے سر لیا اس کے جرنیلوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ افسوسناک تھا۔

یاد رہے کہ سابق کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جمشید گلزار کیانی کرگل آپریشن کے دنوں میں آئی ایس آئی میں تعینات تھے۔ مقامی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے صدر پرویز مشرف کے دعوؤں کو غلط قرار دیے اور کہا کہ نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیان کارگل کی وجہ سے تنازع پیدا ہواتھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو خطرہ تھا کہ پرویز مشرف بغاوت کریں گے اور پرویز مشرف کو ڈر تھا کہ انہیں چیف آف آرمی کے عہدے سے ہٹا دیا جائےگا۔

واضح رہے کہ کرگل کا واقعہ ٹھیک ان دنوں پیش آیا تھا جب ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات کی جانب پیش رفت شروع ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد