BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کارگل کی انکوائری کرائیں‘
لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جمشید گلزار کیانی
لیفٹننٹ جنرل جمشید گلزار کیانی سنہ 2004 میں فوج سے ریٹائر ہوئے
راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جمشید گلزار کیانی نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف ان کا مواخذہ ہونا چاہیے بلکہ ان پر مقدمہ بھی چلنا چاہیے۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں سابق کور کمانڈر نے کہا کہ کارگل کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو بریفنگ نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نےگیارہ ستمبر کے بعد جنرل مشرف کے فیصلوں پر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ لال مسجد پر فاسفورس دستی بم استعمال کیے گئے جو کہ انتہائی ظالمانہ حرکت تھی اور جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جنرل کیانی نے باجوڑ کے مدرسے پر حملے کے واقعے پر بھی سخت تنقید کی۔

جنرل ریٹائرڈ کیانی نے کہا کہ کارگل چڑھائی اور لال مسجد کی انکوائری ہونی چاہیے اور پرویز مشرف پر مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کے کئی کور کمانڈر گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کے ساتھ کام کرنے کی پالسی کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف فوجی افسروں کے مشورے سنتے تو وہ ایک انتہائی کامیاب صدر ہو سکتے تھے لیکن جنرل مشرف نے کسی کی بات نہیں سنی۔ جنرل کیانی نے لاپتہ افراد کا ذکر کرتے ہوئے بھی صدر مشرف پر تنقید کی۔

 جنرل (ر) جمشید گلزار کیانی سابق فوجیوں کی تنظیم میں اب سرگرم ہیں۔ اس تنظیم میں آئی ایس آئی سے ماضی میں منسلک جنرل حمید گل اور جنرل اسد درانی جیسے سابق فوجی خاص طور پر نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

جنرل (ر) جمشید گلزار کیانی سابق فوجیوں کی تنظیم میں اب سرگرم ہیں۔ اس تنظیم میں آئی ایس آئی سے ماضی میں منسلک جنرل حمید گل اور جنرل اسد درانی جیسے سابق فوجی خاص طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین راولپنڈی کے سابق کور کمانڈر کے اس انٹرویو کو خاصی اہمیت دیں گے کیونکہ اس سے سابق فوجیوں کا یہ موقف پھر سامنے لایا جا رہا ہے کہ جنرل مشرف کے اقدامات کے ذمہ دار فوج کو نہیں بلکہ صرف صدر مشرف کو ٹھہرانا چاہیے۔

یاد رہے کہ وکلاء تحریک، مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف جیسی تنظیمیں اس وقت اس موقف پر اڑی ہوئی ہیں کہ صدر مشرف کو صدارت سے دستبردار ہونے کا کوئی محفوظ راستہ یا ’سیف پیسیج ‘ نہیں دینا چاہیے جبکہ یوں لگتاہے کہ پیپلز پارٹی کسی حد تک اس کے حق میں ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد