BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 June, 2008, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
. . . .’ یہ تیرے پراسرار بندے‘

کشمیر فائل فوٹو
کشمیر فوجی طالع آزمائی کے لئے تجربہ گاہ کیوں؟

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان آرمی کے ایک سینئیر آفیسر نے کشمیر میں آرمی کی جانب سے کئے جانے والے ’مِس ایڈوینچرز‘ پر تنقید کی ہو۔

ملک کی تقسیم کے بعد سے لے کر آج تک پاکستانی فوج نے کشمیر میں جتنی بار بھی ’آپریشنز‘ کئے وہ بعد میں نہ صرف متنازعہ بنے بلکہ ان میں شریک اعلیٰ فوجی افسران ’اپنے ضمیر کے جاگ جانے‘ پر اپنی کتابوں اور انٹرویوز میں ان پر سخت تنقید بھی کرتے ہیں۔

پاکستانی فوج اور کشمیر میں ساٹھ برسوں سے جاری اس کے ان ’تجربات‘ میں بہت کچھ مشترک ہے۔ ہر بار سیاسی قیادت کو نظر انداز کرتے ہوئے، منصوبہ بندی اس مفروضے کی بنیاد پر کی گئی کہ ملٹری حکمت عملی سے انڈیا کو زیر کیا جائے گا اور پھر مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ہر بار پاکستانی فوج نے شروع میں غیر فوجی جنگجوؤں یا نیم فوجی طاقت کا استعمال کیا اور پھر بات بگڑ جانے پر باقاعدہ فوج کو سامنے لایا گیا۔

اور تقریباً ہر بار آپریشن کے ہوجانے کے کچھ برسوں بعد کسی نہ کسی جنرل کا ضمیر ضرور جاگا۔

قبائلی حملے، آپریشن گل مرگ: 1948


پاکستانی فوج اور کشمیر کے درمیان اس تلخ تاریخ کا پہلا باب سن سینتالیس اور اڑتالیس میں وہاں ہونے والے قبائیلی حملوں سے شروع ہوتا ہے۔ جس آپریشن کو ابتدائی طور پر ’آپریشن گلمرگ’ کا نام دیاگیا تھا، اس کی منصوبہ بندی اور نگرانی پاکستانی فوج کے بریگیڈئر ان کمانڈ اکبر خان کے ہاتھ میں تھی۔ آپریشن کا بنیادی مقصد ابتدائی طور پر قبائیلی لشکروں کے مدد سے کشمیر میں بغاوت پیدا کرنا ، زیادہ سے زیادہ علاقے پر قبضہ کرنا اور انڈیا کو کسی حل کے لئے مجبور کرنا تھا۔
کشمیر ، مفروضے اور فوج
News image
 ہر بار بنیادی مفروضہ یہی تھا کہ کشمیری عوام پاکستانی فوج کی ایک آواز پر انڈیا کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہونگیں اور ’جیت ہماری ہوگی۔‘

قبائیلی لشکر کشمیر میں داخل ہونے میں ضرور کامیاب ہوئے لیکن کشمیری عوام کی حمایت حاصل کرکے وہاں بغاوت پیدا کرنے کی بجائے اپنے پیچھے لوٹ مار اور ریپ کی ہولناک داستانیں چھوڑ آئے۔ فوجی حکمت عملی اس طرح ناکام ہوئی کہ اسلحے کی سپلائی اور رسد میں شدید دشواری جیسے مسائل کے ساتھ پاکستان کی باقاعدہ فوج کو براہ راست لڑائی کرنا پڑی اور بعد میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنگ بندی کرنا پڑی۔

آپریشن کے کمانڈر اکبر خان نے آپریشن کی ناکامی کے بعد سیاسی حکومت پر سخت تنقید کی اور پھر مشہور زمانہ پنڈی سازش کیس کے بنیادی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ دیگر فوجی افسران کے ساتھ مل کر لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔

آپریشن جبرالٹر: 1965


انیس سو پینسٹھ میں ایک بار پھر پاکستانی فوج ایک نئے آپریشن کا بلیو پرنٹ لے کر تیار بیٹھی تھی۔ اس مرتبہ اسے ’آپریشن جبرالٹر’ کا نام دیا گیا لیکن یوں لگتا ہے کہ پچھلے منصوبے کے مقابلے میں اس کا صرف نام ہی بدلا گیا کیونکہ بنیادی حمکت عملی میں کچھ خاص فرق نہیں تھا۔ اس مرتبہ بھی بنیادی مفروضہ یہی تھا کہ کشمیری عوام پاکستانی فوج کی ایک آواز پر انڈیا کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہونگیں اور ’جیت ہماری ہوگی۔‘ اس مرتبہ یہ کام ایس ایس جی کمانڈوز کو سونپا گیا جنہیں کشمیر میں داخل ہونے کے بعد کشمیری عوام کو بغاوت پر راضی کرنا تھا اور گوریلا کارروائیوں کے ذریعے انڈیا کو کشمیر پر اپنے موقف سے ہٹ جانے پر مجبور کردینا تھا۔

ایس ایس جی کمانڈوز کشمیر میں داخل ہونے میں یقینًا کامیاب ہوئے لیکن کشمیری عوام نہ صرف بغاوت کرنے سے انکاری رہے بلکہ کئی جگہوں پر انڈین حکام کو پاکستانی کمانڈوز کی موجودگی کی اطلاع بھی فراہم کی۔ آپریشن جبرالٹر کی بری طرح ناکامی کے بعد پاکستانی آرمی نے جواباً اس سے بھی بڑا آپریشن گرینڈ سلیم شروع کیا جو بعد میں باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کرگیا جو بعد میں اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد ختم ہوئی۔

پاکستانی فوج کے کئی سینئیر افسران ، جن میں ائر مارشل اصغر خان ، جنرل نور خان، میجر آغا ہمایوں امین صرف چند نام ہیں، اپنی کتابوں اور انٹرویوز میں پینسٹھ کی جنگ کی انتہائی بری منصوبہ بندی پر نوحہ خوانی کرچکے ہیں۔ فوجی حکمت عملی کے کئی سکالرز آج تک اس بات پر حیران ہیں کہ اس جنگ کے منصوبہ بندوں نے اتنی بنیادی بات کو کیسے نظر انداز کردیا کہ اگر پاکستان کشمیر پر حملہ کرتا ہے تو انڈیا جواباً کئی دوسرے محاذ کھول سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہی انڈین آرمی کی جاٹ تھری رجمنٹ لاہور کے بالکل قریب جلو موڑ پر موجود تھی۔

کارگل کی معرکہ آرائی: 1999


ان تلخ تجربات کے تین دہائیوں بعد سن نناوے میں ایک بار پھر پاکستانی فوج نے کشمیر میں طالع آزمائی کی ٹھانی اور پھر سے غیر فوجی جنگجوؤں کی مدد سے کرگل میں داخل ہوکر ایک آپریشن شروع کیا گیا۔

پھر سے وہی کہانی۔ شروع میں باقاعدہ فوج کی شمولیت سے انکار اور بعد میں اقرار اور پھر امریکہ کے دباؤ میں پیچھے ہٹنے کے لئے رضا مندی۔ ایک بار پھر منصوبہ بندی کے شدید فقدان ، جس کی تازہ ترین نشاندہی جنرل ریٹائرڈ جمشید گلزار کیانی نے کی ہے ، سے پاکستان کو جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر خاصی خفت بھی اٹھانی پڑی۔

پاکستانی فوج اور کشمیر میں اس کی طالع آزمائی ہر بار اپنے پیچھے ایسا ترکہ چھوڑ کر گئی جس نے ہمیشہ سیاسی میدان میں کی گئی پیش رفت کو بہت پیچھے دھکیل دیا۔

کشمیر بس سروس ساٹھ سال کی جدائی
سری نگر مظفرآباد سروس عوام کے لیے بےاطمینانی
متاثرینبے نام قبریں کن کی؟
کشمیر میں ایک ہزار سے زائدگمنام قبورکی دریافت
 علی شاہ گیلانی عسکریت کا کنٹرول
’سب کچھ پاکستانی زیرِانتظام کشمیر میں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد