’عسکریت کا کنٹرول ہمارے پاس نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری سرگرمیوں کے وسائل، ذرائع اور کنٹرول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ یہ بات بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سرکردہ علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے سرینگر سے ٹیلیفون پر مظفرآباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں نہیں ہے لہٰذا وہاں عسکری سرگرمیوں کی کمزوری کا الزام ان کو نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کی ذمہ داری پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی قیادت پر عائد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عسکریت کا بیس کیمپ یہاں ( بھارت کے زیر انتظام میں) ہے نہ ہی ان کے وسائل، اور نہ ہی ذرائع اور کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے۔ یہ سب آزاد کشمیر(پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) میں ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’عسکریت جہدوجہد آزادی کا اہم جزو ہے اور اس کو قائم رکھنا، تقویت اور استحکام پہنچانا پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی ذمہ داری تھی۔‘ ’بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں ( پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر) کے حکمران اور سیاسی قیادت اپنے مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں اور عسکریت کی ضرورت کو مطلوبہ معیار تک لے جانے میں اپنا حق ادا نہیں کر پا رہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تحریک آزادی میں عسکریت ایک اہم جزو کے طور پر موجود رہے اور اپنا کردار ادا کرے۔ ہندوستانی فوج کے سربراہوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی میں زیادہ سے زیادہ دو ہزار عسکریت پسند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسندوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے کیوں کہ روزانہ چار پانچ چھ اور کبھی ایک درجن تک بھی ہلاک ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی حکومتیں پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تردید کرتی رہی ہیں۔ پاکستان کا یہ دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری کارروائیوں میں ملوث نہیں اور یہ کہ وہ صرف کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کرتا رہا ہے۔ سید علی گیلانی نے اس موقع پر واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی باہمی تنازعہ نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے حکمران آپس میں مل بیٹھ کر کشمیریوں پر کوئی فیصلہ مسلط کریں۔انہوں نے کہا کہ انہیں حق خود ارادیت سے کم کوئی اور حل قابل قبول نہیں اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے کسی سیاسی رہنما نے مظفرآباد کے صحافیوں سے ٹیلیفون پر خطاب کیا۔ | اسی بارے میں جموں: اہم شدت پسند ہلاک28 May, 2008 | انڈیا جموں میں فائرنگ سے فوجی ہلاک19 May, 2008 | انڈیا ’ایل او سی کے پار سیاحت بھی‘30 April, 2008 | پاکستان کشمیر: مشترکہ کرنسی پر مِلا جُلا ردِ عمل18 April, 2008 | پاکستان نامعلوم قبریں:مظفرآباد میں احتجاج11 April, 2008 | پاکستان ’کشمیری قیادت ہی سنجیدہ نہیں‘05 February, 2008 | پاکستان پاکستان: کشمیر میں یومِ سیاہ26 January, 2008 | پاکستان ’گھر جانے کو دل کرتا ہے۔۔۔‘22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||