BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 April, 2008, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایل او سی کے پار سیاحت بھی‘

یوسف رضا گیلانی(فائل فوٹو)
’اس وقت دنیامیں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ہی ذریعہ بنایا جارہا ہے اور یہ اچھی روایت ہے‘
پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آج مظفرآباد میں کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ امن کے عمل کو آگے بڑھائیں گے اور تنازعہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد یہ وزیر اعظم کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔

مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل یعنی ایوان بالا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ’جموں کشمیر کے لوگوں نے اپنے پیدائشی حق، خق خودارادیت کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں اور کر رہے ہیں‘۔

کشمیر میں سیاحت
 ہم یہ بھی چاہیں گے کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت اور سیاحت بھی شروع کی جائے اور یہ کہ زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے بیٹھنے کے مواقع فراہم ہونے چاہیں
یوسف رضا گیلانی
انہوں نے کہا کہ’ہم کشمیریوں کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور ہم اہل کشمیر کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی یہ قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی‘۔

انہوں نے کہا کہ’ کشمیریوں کی جدو جہد کی صداقت بالکل واضع ہے اور یہ کہ یہ جدو جہد کسی کے خلاف نہیں بلکہ اقوام عالم نے ان سے حق خود ارادیت کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس کا ایفا چاہتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ’یہ حق کی بات ہے اور کشمیریوں کو یہ حق ملنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ’پاکستان کشمیر کے تنازعے پر بھارت کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے اور یہ کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور جامعہ مذاکرات کا عمل کسی بہتر نتیجے پر پہنچے گا‘۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کشمیریوں کی خواہشات زیادہ عزیز ہیں‘۔

یوسف رضا گیلانی نےکہا کہ ’مقبوضہ کشمیر( بھارت کے زیر انتظام کشمیر) میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے تا کہ فضا زیادہ ساز گار ہوسکے‘۔

فائربندی
 پاکستان نے نوممبر دو ہزار تین میں جموں کشمیر میں لائن آف کنڑول پر یکطرفہ طور پر فائر بندی کا اعلان کیا تھا اور اس پر بدستور عمل کیا جارہا ہے۔
یوسف رضا
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے ہمشیہ امن کی راہ اپنائی ہے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امن ہی خوشحالی اور استحکام اور سلامتی کا ضامن ہے‘۔

انہوں نے دونوں ملکوں کی طرف سے اٹھائے گئے اعتماد سازی کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نومبر دو ہزار تین میں جموں کشمیر میں لائن آف کنڑول پر یکطرفہ طور پر فائر بندی کا اعلان کیا تھا اور اس پر بدستور عمل کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ منقسم کشمیری خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے ساتھ ساتھ لائن لائن آف کنڑول کے آر پار جانے لیے چند اور مقامات کھولے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد