BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر کے نام پر خزانہ لوٹا جا رہا ہے‘

سردار عتیق
وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اب تک کئی غیر ملکی دورے کر چکے ہیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکمران آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کو آنے والے زلزلے کے بعد بیرون ممالک کے دوروں پر اب تک کروڑوں روپے خرچ کر چکے ہیں جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی تباہ حال ریاست پر اضافی بوجھ ہے جو ڈھائی برس کے بعد بھی زلزلے میں ہونے والی تباہ کاریوں سے باہر نہیں نکل پائی۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان منگل کو برطانیہ اور بیلجیئم کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں جبکہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر بھی سرکاری اخراجات پر بیلجیئم کے چار روزہ دورے پر گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں بھی ایک چھ رکنی پارلیمانی وفد برطانیہ اور فرانس کے ایک ہفتے کے دورے پرگیا تھا۔ اس وفد میں دو وزراء، دو مشیروں اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز مسلم لیگ کے رکن کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کے ایک سیکرٹری بھی شامل تھے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی حنیف اعوان نے اس دورے پر جانے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بچے اب بھی خیموں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، علاج کے لئے اسپتال نہیں اور سڑکیں بد حال ہیں اور ہزاروں لوگوں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کے لئے امدادی رقم نہیں دی گئی ایسے میں بیرون ممالک کا دورہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکمرانوں کو غیر ملکی دوروں پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے یہ رقم تعمیر نو پر خرچ کرنی چاہیے۔

اس سے قبل مارچ کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے بیٹے کے سرکاری اخراجات پر دورۂ جنیوا پر ایک تنازعہ کھڑا ہوا تھا اور ایک وزیر نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ معاملہ اٹھانے پر حزب مخالف کے ایک رکن اسمبلی کی پٹائی کر دی تھی۔

 ہمیں بیرون ممالک دوروں کے بجائے سست روی سے جاری تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے اور اس کی رفتار تیز کرنی چاہیے
راجہ ذوالقرنین

وزیراعظم کے بیٹے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جنیوا کے دورے پر ہیں اور ان کے ساتھ تین رکنی وفد بھی گیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں رکن ممالک، مبصرین اور غیر سرکاری تنظیمیں شرکت کرتے ہیں۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے وزیراعظم اور ان کے صاحبزادے کے بیرون ملک دوروں کے خلاف ننگے پاؤں مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ’مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے نام پر قومی خزانے کو لوٹا جا رہا ہے‘۔

حزبِ مخالف جماعتیں سردار عتیق احمد خان کی حکومت کو اقربا پروری، طرف داری، بدعنوانی اور بے انصافیوں کی علامت قرار دے رہی ہیں تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

حکمران جماعت مسلم کانفرنس سنہ سن دو ہزار چھ میں دوبارہ برسراقتدار آئی تھی اور حزب مخالف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ان انتخابات میں مسلم کانفرنس کے حق میں دھاندلی کروائی تھی۔ تاہم حکمران جماعت اس کی تردید کرتی ہے۔

چوبیس جولائی سن دو ہزار چھ کو اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اب تک کئی غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔ وہ موجودہ دو ہفتے کے دورے سے پہلے مخلتف اوقات میں قریباً اسّی دن بیرون ملک رہے ہیں حالانکہ ان کو اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی صرف بیس ماہ ہوئے ہیں۔ ان کے بیٹے بھی سرکاری اخراجات پر موجودہ دورۂ جینیوا سمیت بیرون ممالک کے کم از کم تین دورے کر چکے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کے سپیکر، کئی وزراء اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس اور حزب مخالف کے کئی اراکین اسمبلی کئی مطالعاتی دوروں پر یورپی ممالک جا چکے ہیں۔

زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بچے اب بھی خیموں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، علاج کے لئے اسپتال نہیں اور سڑکیں بد حال ہیں اور ہزاروں لوگوں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کے لئے امدادی رقم نہیں دی گئی ایسے میں بیرون ممالک کا دورہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
حنیف اعوان

اس کے علاوہ ان بیس ماہ میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین نے بھی چند غیر ملکی دورے کیے ہیں لیکن وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ’ہمیں بیرون ممالک دوروں کے بجائے سست روی سے جاری تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے اور اس کی رفتار تیز کرنی چاہیے‘۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ دو سال سے کم عرصے میں اب تک غیر ملکی دوروں پر مجموعی طور پر سات کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کی جا چکی ہے جس میں حکام کے مطابق صرف وزیراعظم کے دوروں پر تین کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوئی ہے۔

اس کے برعکس سردار عتیق کے پیشرو سکندر حیات کی سربراہی میں مسلم کانفرنس کی حکومت کے آخری چار سالوں یعنی دو ہزار دو سے دو ہزار چھ تک بیرون ملک دوروں پر مجموعی طور پر کوئی ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ کیے گئے جس میں اس وقت کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کے دوروں پر سّتر لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ دورے ایک ایسی صورت حال میں کئے جا رہے ہیں جب علاقے میں تعمیر نو کا کام بہت ہی سست رفتار سے جاری ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ متاثرین اور حزب مخالف کی جماعتیں حکمرانوں کے دوروں پر نالاں ہیں اور وہ انہیں وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل کا کہنا ہے کہ’تعمیر نو کے لیے پوری دنیا میں کشکول اٹھا کر بھیک مانگی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف حکمران غریب عوام کے ٹیکس کو اپنی عیاشیوں پر صرف کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے لیکن خود حکمران ریاست سے غائب رہتے ہیں اور متاثرین کو امدادی تنظیموں کے حوالے کیا گیا ہے‘۔ تاہم حکومت ان دوروں کا دفاع کرتی ہے اور مشیرِ اطلاعات راجہ یاسین کا کہنا ہے کہ’تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے لیے یہ دورے ضروری ہیں‘۔

اسی بارے میں
کشمیر کے ’سردار تردید‘
30 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد