BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 March, 2008, 19:39 GMT 00:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ارکان اسمبلی کی گرفتاری کا مطالبہ‘

ڈاکٹر فاروق ستار
مسلم کانفرنس واقعے پر پوری اسمبلی سے معافی مانگے
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مسلم کانفرنس کے بعض ارکان کی جانب سے متحدہ کے پارلیمانی لیڈر طاہر کھوکھر کو زدوکوب کرنے کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملوث ارکان کو معطل کرکے گرفتار کیا جائے اور حکمران جماعت مسلم کانفرنس واقعے پر پوری اسمبلی سے معافی مانگے۔

جمعرات کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ طاہر کھوکھر پر صرف اس بناء پر حملہ کیا گیا کہ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کے بیٹے عثمان عتیق کے ساتھ بیرون ملک دورے پر جانے والی تین خواتین کے بارے میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس سپیکر کے پاس جمع کرا رہے تھے۔

’توجہ دلاؤ نوٹس میں طاہر کھوکھر نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ عثمان عتیق کے ساتھ جو تین خواتین دورے پر بیرون ملک جا رہی ہیں وہ کون ہیں اور اس سلسلے میں لاکھوں روپے کشمیر لبریشن سیل سے حاصل کیے گئے ہیں وہ بدترین کرپشن ہے اس لیے اسمبلی اسکی تحقیقات کرے‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ جب طاہر کھوکھر اسمبلی کے سپیکر کی اجازت سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرانے آگے بڑھے تو مسلم کانفرنس کے ارکان اسمبلی حافظ احمدرضا، قیوم نیازی اور مرتضی گیلانی نے ان پر بیک وقت حملہ کردیا، انہیں مغلظات دیں اور منہ پر گھونسے مارے جس سے ان کے کان سے خون جاری ہوگیا اور وہ نیم بے ہوش ہوگئے۔

توجہ دلاؤ نوٹس کا مقصد کیا تھا
 طاہر کھوکھر نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ عثمان عتیق کے ساتھ جو تین خواتین دورے پر بیرون ملک جا رہی ہیں وہ کون ہیں اور اس سلسلے میں لاکھوں روپے کشمیر لبریشن سیل سے حاصل کیے گئے ہیں وہ بدترین کرپشن ہے اس لیے اسمبلی اسکی تحقیقات کرے
فاروق ستار

انہوں نے کہا کہ حملہ آور ارکان اسمبلی نے سپیکر کو بھی مغلظات سنائیں اور ان پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی نشاندہی میں سپیکر کا بھی کوئی کردار ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ اسمبلی کے جاری اجلاس میں تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے جس سے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ دنیا بھر میں ملک و قوم کا وقار بھی بری طرح متاثر ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ثابت ہوگیا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکمران جماعت کے ارکان میں تحمل و برداشت، افہام و تفہیم اور پارلیمانی اقدار کے احترام کا کوئی پاس نہیں ہے اور وہ اسمبلی کے ایوان اور دیگر عوامی مقامات میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ واقع ایم کیو ایم کے ارکان کے ساتھ مسلم کانفرنس کے متعصبانہ رویے کا حصہ ہے‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ واقعے کے بعد قانون ساز اسمبلی کے سپیکر نے حافظ احمد رضا کو رولز کے مطابق معطل کر دیا ہے تاہم یہ اقدام کافی نہیں ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ طاہر کھوکھر کو مارپیٹ کرنے پر مسلم کانفرنس کے دو دیگر ارکان قیوم نیازی اور مرتضی گیلانی کو بھی معطل اور گرفتار کر کے اسمبلی رولز کے مطابق سزا دی جائے اور عثمان عتیق کے ساتھ تین خواتین کے بیرون ملک دورے کے معاملے کی تحقیقات کراکے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو متحدہ پورے ملک میں اور ہر فورم پر احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد