تین فوجیوں پر ریپ کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک خاندان نے الزام لگایا ہے کہ تین پاکستانی فوجیوں نے ایک نوجوان خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ پولیس نے تین نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ افراد مجاہد بٹالین سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جا رہی ہیں اور اگر کوئی قصور وار ہوا تو اس کو کڑی سزا دی جائے گی۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے خاندان والوں نے بتایا ہے کہ فوج نے ان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ کیس واپس لے لیں۔ یہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوج کے کسی رکن نے کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک تیس سالہ طلاق یافتہ خاتون پندرہ جولائی کو پلری گاؤں سے لکڑیاں لینے گئی جب وہاں موجود تین فوجیوں نے اسے گھیر لیا اور ریپ کر دیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق خاتون کے ساتھ جانے والے ایک چھوٹا بچہ حملہ آووروں سے ڈر کر بھاگ نکلا لیکن زیادتی کرنے والوں میں سے ایک فوجی نے اس کا پیچھا کیا اور اسے پکڑ لیا۔ لیکن جب وہ زور زور سے رونے لگا تو گاؤں والوں کے آنے کے ڈر سے تینوں افراد بھاگ نکلے۔ اٹھمقام میں رہنے والے ہزاروں افراد نے بدھ کے روز زیادتی کے خلاف مظاہرے کیے اور مطالبہ کیا کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔ خاتون کے برادرِ نسبتی مطیع اللہ نے بتایا ہے کہ فوجی حکام کو اس واقعہ کے بارے میں اطلاع دے دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ خاندان کی مدد کرنے کی بجائے فوجی حکام الٹا ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کیس واپس لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ وادئ نیلم کے ڈپٹی کمشنر کو اکیس جولائی کو ایک درخواست بھیجی تھی اور مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا تھا۔ چھبیس جولائی کو ڈپٹی کمشنر کے حکم پر اٹھمقام پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||