BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 October, 2003, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانون کے محافظ پر جنرل کا غصہ
’ڈرائیور صاحب نے بات کا آغاز ہی گالیوں سے کیا‘

میجر جنرل صباحت حسین کی کالے شیشوں والی گاڑی روک کر زیرِ عتاب آنے والے پولیس کانسٹیبل نذیر ڈوگر کا کہنا ہے ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پاکستان کے قانون پر عمل درآمد کرانے کا شاخسانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ڈیوٹی پر واپس بحال کر دیا گیا اور افسران نے انہیں حکم دیا کہ کالے شیشوں والی گاڑیاں روکیں تو وہ پھر یہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’فوجی صاحب‘ کی گاڑی روک کر انہوں نے صرف وہی کیا جس کا حکم انہیں قانونی طور پر دیا گیا تھا۔

جنرل کا ڈرائیور، ڈرائیور کی زبان

 جنرل صباحت کے’ڈرائیور صاحب‘ باہر نکلے اور انہوں نے بات کا آغاز ہی ’دلے‘ اور ’بے غیرت‘ کی گالیوں سے مخاطب کر کے کیا

نذیر ڈوگر

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار نذیر ڈوگر نے بتایا کہ جب انہوں نے میجر جنرل صباحت حسین کی گاڑی روکی تو اندر سے ’ڈرائیور صاحب‘ باہر نکلے اور انہوں نے بات کا آغاز ہی انہیں ’دلے‘ اور ’بے غیرت‘ کی گالیوں سے مخاطب کر کے کیا۔ نذیر ڈوگر نے بتایا کہ ڈرائیور نے ان سے کہا کہ ’تمہیں نہیں پتہ یہ جرنیل صاحب کی گاڑی ہے۔ تم نے اسے کیوں روکا ہے؟‘

کانسٹیبل نذیر ڈوگر بتاتے ہیں: ’میں نے ان سے کہا چلیں جانے دیں، آپ چلے جائیں۔ لیکن انہوں نے مجھے پھر گالیاں دیں۔ میں نے انہیں کہا کہ جو آپ مجھے کہہ رہے ہیں وہ آپ خود ہوں گے۔ اس پر جرنیل صاحب کے ڈرائیور نے میرا گریبان پکڑ لیا جس سے میری وردی کے دو تین بٹن بھی ٹوٹ گئے۔‘

نذیر ڈوگر نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ڈرائیور نے جرنیل صاحب کو فون کیا جس پر جرنیل صاحب نے پولیس کے اعلیٰ افسروں سے بات کی اور ان کے خلاف رپورٹ درج کر دی گئی۔

معتوب کانسٹیبل اب کیا کریں گے؟

کرنا کیا ہے جو میرے افسر حکم دیں گے اسی کی تعمیل کروں گا۔ کمزور آدمی کر بھی کیا سکتا ہے

زیرِ عتاب کانسٹیبل نذیر ڈوگر

’مجھے ہتھکڑی لگا دی گئی اور حوالات میں بند کر دیا گیا۔ کچھ دیر بعد مجھے فوجی صاحب کے دفتر ایک سو چودہ بریگیڈ لے جایا گیا۔ وہاں پہلے سے ہی ڈی۔آئی۔جی صاحب اور ایس۔ایس۔پی صاحب موجود تھے۔ انہوں نے فوجیوں سے کچھ بات چیت کی جس کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا گیا اور مجھے واپس لا کر حوالات میں بند کر دیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اگلے روز انہوں نے اپنی ضمانت کروائی اور اس تھانے میں واپس آئے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔ تاہم انہیں محرر کی زبانی معلوم ہوا کہ انہیں معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اب وہ کیا کریں گے تو نذیر ڈوگر کا جواب تھا: ’ کرنا کیا ہے جو میرے افسر حکم دیں گے اسی کی تعمیل کروں گا۔ کمزور آدمی کر بھی کیا سکتا ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا کسی نے آپ کے ساتھ ہمدردی کی یا دلاسا دیا تو نذیر ڈوگر نے کہا: ’دلاسا کس نے دینا تھا۔ کچھ دوستوں نے اور گھر والوں نے تسلی دی اور میری ضمانت بھی میرے گھر والوں نے کروائی۔ میں نے اپنے چچا کو ضمانت کے لئے فون کروا دیا تھا۔‘

نذیر ڈوگر کو فوج کے تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت سلطان کے اس دعوے سے اتفاق نہیں تھا کہ ایس۔پی اور ایس۔ایچ۔او کا تبادلہ معمول کی کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ (اسی) واقعہ کی ایک کڑی ہے، اور کیا ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اب کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا: ’ہوگیا کیا جناب، جو افسرانِ بالا حکم دیں گے اس کی تعمیل ہوگی۔ اللہ وارث ہے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد