BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کے ’سردار تردید‘

وزیراعظم سردار عتیق
گمشدگیاں تمام ممالک میں ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ کی حکومتیں بھی لوگوں کو برآمد کروانے میں ناکام ہوجاتی ہیں
پاکستنانی زیر انتظام کشمیر میں بھی پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں شہریوں کی میبنہ گمشدگیاں ہوں کہ وہاں حال ہی میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی رپورٹیں، قدرت اور انسانوں کی دہشتگردی کے مارے ہوئے ‎اس بد نصیب خطے میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں میں امداد و تعمیر نو کی رقوم میں بہت ہی بڑے پیمانے پر خرد برد، وزیراعظم سردار عتیق اتوار کی رات ہر چيز کی تردید کرتے نظر آئے۔ اسی لیے کسی نے انہیں کشمیر کے ’سردار تردید‘ کا نام دیا۔

کبھی نہ سونے والے نیویارک میں، ’عالمی پنجابی کانفرنس‘ (جسکا حال و احوال پھر ہوگا) کو بیچ میں چھوڑ کر جب ہم کوئنز سے بروکلین براستہ جمئیکا ایکسپریس ویز میں بھٹکتے ’لٹل پاکستان کہلانے‘ والے کونی آئیلینڈ میں اس مقامی ریستوران میں پہنچے جہاں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کے اعزاز استقبالیہ دیا جا رہا تھا تو وہ پہر شروع ہو چکا تھا جب نیویارک کے شرابی باروں سے گھروں کو لوٹنے کے حوصلے باندھنے اور رات کے راہیوں کے رتجگے شروع ہونے والے ہوتے ہیں۔ سامنے سڑک پر ’مکی مسجد‘ تھی اور اس کے ’فوڈ اینڈ بار‘ یعنی ’شراب و طعام‘ جہاں سے کچھ پینے والے سنبھلتے اور لڑکھڑاتے قدموں باہر نکل رہے تھے۔ میں اور میرا صحافی دوست مرتضی بھٹو پر راجہ انور کی لکھی ہوئی کتاب ’دہشتگرد شہزادہ‘ پر بات کرتے ہوئے ایکسپریس وے پر راستہ بھول گئے۔ ’کاش کو ئی اخبار کل کی خبروں کا ہوتا‘ میں نے اپنے صحافی دوست سے کہا۔

لیکن لٹل پاکستان کے نیم تاریک سائڈ واکز یا فٹ پاتھوں پر چہل پہل جاری تھی۔ بروکلین کی مشہور مکی مسجد کے پیش امام حافظ صابر نے کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کو ان کی امریکہ آمد پر استقبالیہ دیا تھا۔ اچھی خبر یہ تھی کہ کم از ایک میز ایسی تھی جس پر ملیحہ لودھی کا ذکر تھا۔

اس استقبالیے کے باہر کچھ لوگوں نے حافظ صابر کیخلاف مظاہرہ بھی کیا۔ ’مظاہرے میں شریک تین افراد بھارتی قونصل خانے کے تھے‘ کسی نے استقبالیے میں احتجاج کرنے والوں پر تبصرہ کیا۔ لیکن استقبالیے میں شریک ایک شخص نے بروکلین کے نیم تاریک فٹ پاتھ پر ہمیں آ لیا اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ صابر کیخلاف مسجد کے فنڈ میں خرد برد پر مظاہرہ جلد ہی انہیں مصبت میں ڈال دے گا۔ باقی مواد میں آپکو بذریعہ ای میل بھیج دوں گا‘۔ اس نے رخصت ہونے سے پہلے کہا۔

 جوابی اشتہار
حافظ صابر حامیوں کا جوابی اشتہار

نیویارک میں مسلمانوں کی مسجد کے پیش امام کا بڑا ٹہکہ ہوتا ہے۔ آجکل لٹل پاکستان کی مشہور مکی مسجد کے پیش امام حافظ صابر اور نیویارک سے نکلنے والے کم از کم دو اردو ہفتہ روزہ اخبارات کے بیچ بڑا دنگل جاری ہے۔ پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم کی استقبالیہ تقریب سے بھی حافظ صابر نے اپنے مخالف دو اخبارات کے صحافیوں کو باہر نکال دیا۔ ان دو اخبارات اور حافظ صابر میں ’انسانی سمگلنگ‘ اور ’بلیک میلرز‘ کے الزام در جوابِ الزام کا رشتہ ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کیخلاف پورے پورے صفحے کےاشتہارات چھپوائے ہیں۔ حافظ صابر نے اپنے خلاف لکھنے والے اخبارات کے بنڈلز پاکستانی ریستورانوں اور گروسری سٹوروں سے مبینہ طور غائب کروا دیے جس پر صحافیوں کے تحفظ کی تنظم سی پی جے یا کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس بھی حرکت میں آئي تھی۔

حافظ صابر نیویارک میں ’پولیٹکل کوآرڈینیٹر برائے وزیراعظم آزاد کشمیر‘ بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر کے محکمہ تعلیم سے لے کر فوج اور مزدور پیشہ لوگوں تک مختلف شعبہ جات زندگي سے تعلق رکھنے والے کئي شہریوں کی مبینہ طور پاکستانی انٹیلجینس ایجینسیوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر طویل عرصے سےگرفتاریوں اورگمشدگیوں کی رپورٹوں کے متعلق بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سردار عتیق نے کہا کہ کچھ لوگ آزاد جموں اور کشمیر سے زلزلے کے دوران گم ہوگئے تھے لیکن انٹیلیجنس ایجینیسوں کے ہاتھوں شہریوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹوں میں، بقول ان کے کوئي صداقت نہیں۔

اشتہار
حافظ صابر کے مخالفین کا اشتہار

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے اس استفسار پر کہ بی بی سی سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹوں اور یہاں تک کہ گمشدہ لوگوں کے والدین و ورثاء تک کی جانب سے گمشدگیوں میں مبینہ طور پاکستانی انٹیلیجنس ایجیینسیوں کو ملوث بتائے جانے کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ گمشدگیاں تمام ممالک میں ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ کی حکومتیں بھی لوگوں کو برآمد کروانے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔

ایک صحافی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ اس دورے کا مقصد عالمی برادری میں کشمیر کے حوالے سے امن کے عمل کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلیے، بقول ان کے صدر مشرف کی ہمت افزائی کروانا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’صدر مشرف نے کشمیر میں امن کا فارمولا پیش کر کے مخالف ہواؤں کے سامنے سفینہ اتارا ہے‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے کشمیر کے معاملات میں فوجی اور جہادی اثر نفوذ نہیں اور وہاں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کشمیریوں نے جہادی عناصر و دیگر قوتوں کو مسترد کردیا ہے، مسلم کانفرنس کی جیت ہوئی اور انتخابات میں ساٹھ فی صد ووٹ پڑے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے استفسار پر انہوں نے ٹرن آؤٹ ’ساٹھ سے اٹھاون فی صد‘ کر دیا۔

انہوں نے ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کی رپورٹوں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات شفاف اور بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹمیوں اور مبصروں کی موجودگي میں ہوئے تھے۔ آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی امداد اور تعمیر نو میں سنگین بے قاعدگيوں کی بھی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام دنیا میں اس وقت قطرینہ اور سونامی جیسی قدرتی آفات آئی ہوئي تھیں لیکن کشمیر میں تمام امدادی اور تعمیر نو کے مالی امور مانیٹرنگ کے عالمی گروپوں کی آنکھوں کے سامنے نمٹائے گئے اور بقول ان کے، اس سلسلے میں ’آزاد جموں و کشمیر دنیا بھر میں مالی امور کے حوالے سے شفافیت کی چوٹی پر ہے‘۔

کشمیر: فوجی و جہادی اثر نفوذ نہیں
 کشمیر کے معاملات میں فوجی اور جہادی اثر نفوذ نہیں اور وہاں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کشمیریوں نے جہادی عناصر و دیگر قوتوں کو مسترد کردیا ہے، مسلم کانفرنس کی جیت ہوئی اور انتخابات میں ساٹھ فی صد ووٹ پڑے
سردار عتیق

انہوں نے زلزلے کے دوران بین الاقوامی میڈیا کی کچھ رپورٹوں اور غیر سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں دہشتگردی کے کیمپوں اور انتہاپسند تنظیموں کی سرگرمیوں کی تردید کی۔ تاہم انہوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ’جماعت الدعوۃ‘ جسی تنظیموں کو زلزلے کے دوران امدادی کارروائیوں میں مصروف دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرح ’نارمل تنظیمیں‘ قرار دیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم سردار عتیق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے جلد از جلد حل کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کو اربوں روپے کا بجٹ فوجوں اور جنگي ہتھیاروں کے بحائے عوام کی بہبود کے لیے میسر آ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت اس میں فریق ضرور ہیں لیکن کشمیر میں امن کا عمل اور اس کا حل صرف کشمیری عوام کی مرضی اور شرکت سے ممکن ہے اور دونوں ملکوں کو اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی کشمیر سے بھارت میں در اندازی اور پاکستانی فوج کی مداخلت کی بھی تردید کی۔

میں وزیراعظم سردار عتیق سے یہ سوال کرنا واقعی بھول گیا کہ لوگ کیوں دونوں کشمیروں کی حکومتوں کو کٹھ پتلی حکومتیں اور ان کے سربراہوں کو کٹھ پتلی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کہتے ہیں۔

صدر مشرفلش پش وردی
’گڈ فرائيڈے‘ پر حسن مجتبیٰ کا کالم
سلمان رشدی’سر‘ سلمان رشدی
’خطاب ملنے پر نہیں لینے پر اعتراض‘حسن مجتبٰی
جنرل مشرف اور صدر بشآمریت اور گھوڑے
’گھوڑے کے دن، جیسے ابتدائی ویسے ہی آخری‘
 ڈاکٹر عائشہدانشوروں کی اپیل
’حکومت ڈاکٹر عائشہ کو تحفظ فراہم کرے‘
 الطاف حسین ’وہ لال بتی جائے گا‘
کیفے آبشار سے ’قائد تحریک‘ تک کا سفر
 جسٹس افتخار محمد چودھری پاکستانی ’راک سٹار‘
ایسا استقبال امریکہ میں راک سٹارز کا ہوتا ہے
’ممی ڈیڈی کلاس‘
ملاؤں، جنرلوں کے بعد تیسری بڑی رکاوٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد