برفباری سے جموں و کشمیر الگ ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں غیر متوقع طور پر بھاری برفباری سے زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ پر واقع جواہر ٹنل پر قد آدم برف جمع رہنے کی وجہ وادی باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئی ہے۔ مختلف حادثات میں ایک شہری کی موت واقع ہوگئی جبکہ املاک کوبھی نقصان پہنچا۔ وادی میں حکومت نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایک ہفتے کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے یکم مارچ کو حسبِ معمول اڑھائی ماہ کی سرمائی تعطیلات کے بعد کھُل گئے تھے۔ وادی کے اضلاع کے درمیان ٹریفک نظام بری طرح سے متاثر ہے جبکہ ہوائی اڈے کی رن وے پر برف جمع رہنے کی وجہ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں ہیں۔ اس دوران انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کا نظام بھی بے حد متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں برفباری سے جموں ہائی وے پر چٹانیں کھسکنے اور میدانی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔
حکومت نے ایک سینئر وزیر محمد دلاور میر کو صورتحال سے نمٹنے والے خصوصی سیل کا انچارج بنا دیا ہے۔ دلاور میر نے جموں سے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’ہم تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور سارے متعلقہ محکمہ جات کو ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے‘۔ برفباری کی وجہ سے پوری وادی میں ضروری چیزوں کی قلت اور ٹریفک نظام کی ابتری سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ تاخیر سے ہونے والی اس برفباری کے بعد جب منگل کی دوپہر کو مطلع صاف ہوا تو کھلکھلاتی دھوپ میں لوگوں کو جھومتے ہوئے دیکھا گیا ۔کشمیر کی ثقافت کا خوبصورت حصہ ’شینہ جنگ‘ یعنی برف کے لتھڑوں سے لڑنا ایسا نظارہ تھا جس میں لوگوں کو وہ مصائب پل بھر کے لیے بھول گئے جو یہ برفباری اپنے ساتھ لائی ہے۔ | اسی بارے میں شدید سردی سے پانچ زائرین ہلاک12 March, 2007 | انڈیا برف:جموں سرینگر شاہراہ پھر بند05 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||