مظفر آباد: سرکاری دوروں کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اتوار کوتین روزہ دورے پر ترکی روانہ ہوگئے ہیں اور صدر پہلے سے ہی یورپی ممالک کے دورے پر ہیں۔ حکومت مخالف جماعتوں نے ان دوروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل کچھوے کی رفتار سے جاری ہے اور حکمران بیرون ممالک کے دوروں پر کروڑوں روپے ضائع کر رہے ہیں۔ سردار عتیق احمد خان کے معاون خصوصی ڈاکڑ سردار محمد حلیم خان نے حکومت مخالف جماعتوں کی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم کرکٹ یا کوئی اور کھیل کھیلنے بیرون ممالک کا دورہ نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ مسلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے مزید امداد حاصل کر نے کی غرض سے دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے صدر اور وزیر اعظم کو تواتر سے دورے کرنے چاہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں اتوار کی شام کو استنبول میں یتیم بچوں کی تیسری عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ وہاں کے میڈیا سے ملاقات کریں گے۔
حکام کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں برسر اقتدار آنے کے بعد اب تک وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان بیرون ممالک دوروں پر لگ بھگ تین کروڑے روپےخرچ کر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے بیرون ممالک دوروں پر گزشتہ مالی سال میں ابتدائی طور پر دس لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے اور بعد ازاں اس میں ڈیڑھ کڑوڑ روپے کا اور اضافہ کیا گیا لیکن وزیر اعظم اب تک اپنے دوروں پر دو گناہ زیادہ رقم خرچ کر چکے ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے کے صدر راجہ ذوالقرنین پہلے ہی یورپی ممالک کے تین ہفتوں کے دورے پر ہیں۔ یہ دورے ایسے حالات میں کئے جا رہے ہیں جب کشمیر کے اس علاقے میں تعمیر نو کے کام کی رفتار پر لوگوں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے حکمرانوں کے دوروں کو وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع قرار دیا۔
حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی تنظیموں کے رحم کرم پر چھوڑا گیا ہے اور حکمران خود قومی دولت بے مقصد دوروں پر ضائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو یہ رقم تعمیر نو پر خرچ کرنی چاہیے تھی۔ سن انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت مخالف مسلح تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف موقعوں پر کشمیر کے اس علاقے کے حکمرانوں نے بیرون ممالک کے دورے کئے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تیزی آتی گئی اور ان دوروں پر اب تک اربوں روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ لیکن عام آدمی یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر ان دوروں کے کیا مقاصد تھے اور ان سے کیا نتیجہ حاصل ہوا ہے۔ | اسی بارے میں نئے دارالحکومت کیلیے رقم نہیں 07 March, 2007 | پاکستان سردار عتیق امریکہ، یورپ کے دورے پر10 September, 2006 | پاکستان ’تعمیر نو فوج کا کام نہیں‘08 October, 2006 | پاکستان کشمیری وفد کے قیام میں توسیع21 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||