BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 March, 2008, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:نئے وزراء،مشیروں کا تنازعہ

کشمیر اسمبلی
چار نئے وزراء کی شمولیت کے بعد کابینہ کے راکین کی تعداد انیس ہوگئی
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دو ہفتے گذر جانے کے بعد بھی چار نئے وزرا اور تین نئے مشیروں کے محکموں کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو ابھی تک دفاتر فراہم کئے گئے ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ صلاح مشورے کے باعث محکموں کے اعلان میں تاخیر ہو رہی ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم کو قلمدان سونپنے میں دشواری کا سامناہے۔

اس ماہ کے اوائل میں کشمیر کے اس علاقے کی کابینہ میں چار نئے وزیر شامل کئے گئے اور اس کے علاوہ تین اور مشیروں اور ایک معاون خصوصی کا بھی تقرر کیاگیا۔

کشمیر کے اس علاقے کی حکومت کے ترجمان راجہ یاسین کا کہنا ہے کہ ’ وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان سوچ بچار کر رہے ہوں گے اور صلاح مشورہ کررہے ہوں گے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے‘۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں ان کے محکموں کا اعلان کردیا جائےگا۔

حکومت کے ترجمان کا موقف اپنی جگہ لیکن اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کو نئے وزراء اور مشیروں کو قلمدان سونپنے میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ کابینہ میں توسیع اور نئے مشیروں کے تقرر کے بعد بڑے پیمانے پر محکمانہ ردو بدل کی ضرورت ہوگی اور یہ بھی ضروری ہوگا کہ تمام وزراء اور مشیروں کو مطمئن رکھا جائے۔

چار نئے وزراء کی شمولیت کے بعد کابینہ کے راکین کی تعداد انیس جبکہ تین نئے مشیروں کے تقرر کے بعد مشیروں کی تعداد چھ ہوگئی ہے اور اس کے علاوہ ایک معاون خصوصی بھی ہیں۔ مشیروں اور معاون خصوصی کا عہدہ وزیر کے برابر ہے اور ان میں بیشتر اراکین اسمبلی ہیں۔

 نئے وزراء اور مشیروں کو یہ بھی شکایت ہے کہ ان کو ابھی تک دفاتر اور عملہ فراہم نہیں کیا گیا تاہم حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دفاتر کا انتظام کیا جارہا ہے

واضع رہے قانون ساز اسمبلی کے کل انچاس اراکین میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس اور اس کے اتحادی جماعت کے اراکین کی تعداد 35 ہے اور ان میں ایک یا دو کے سوا اور کوئی نہیں ہے جس کو عہدہ اور مراعات نہ دی گئی ہو۔

نئے وزراء اور مشیروں کو یہ بھی شکایت ہے کہ ان کو ابھی تک دفاتر اور عملہ فراہم نہیں کیا گیا تاہم حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دفاتر کا انتظام کیا جارہا ہے اور جلد ہی ان کو دفاتر اور عملہ فراہم کردیا جائے گا۔

کابینہ میں شامل کیے جانے والے چار میں سے تین ایسے وزیر ہیں جن کو حکمران جماعت مسلم کانفرنس نے سن دو ہزار چھ کے انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب جیت کر مسلم کانفرنس حقیقی کے نام سے اپنا گروپ تشکیل دیا تھا اور اب ان کی کابینہ میں شمولیت کے بعد یہ گروپ عملاً تحلیل ہوگیا ہے۔

گرچہ ان اراکین نے قائِد ایوان ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور مخصوص نشتوں پر انتخاب میں حکمران جماعت کے امیدواروں کی حمایت کی لیکن ان کو کابینہ میں شامل کیے جانے سے پہلے تک وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کی حکومت سے یہ شکایت رہی کہ ان کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ لیکن پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد ان کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔

کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے حامی تصور کیے جاتے ہیں اور یہ خبریں بھی ملی تھیں کہ انہوں نے پاکستان کے عام انتخاب میں صدر پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ ق کے بعض امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم بھی چلائی تھی۔

پاکستان میں مسلم لیگ ق کی ناقص کارکردگی کے بعد یہ خطرہ تھا کہ اس کا اثر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بطور وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کی حثیت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

کشمیر میں برفبارینیا گھر بنائیں گے
مظفر آباد کی جگہ نیاشہر بسایا جائے: سکندرحیات
مظفر آبادایک نیا تنازع
دارالحکومت مظفر آباد نہیں، کہیں اور۔۔۔
کشمیرزلزلہ کے دو سال بعد
آج بھی کشمیر کی سڑکیں خستہ حالت میں ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد