زلزلہ کے بعد کشمیر کی سڑکیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے باعث پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کےمتاثرہ علاقوں میں بیشتر سڑکیں تباہ ہوگئی تھیں یا ان کو نقصان پہنچا تھا۔ ان میں بیشتر کوصرف قابل استعمال بنایا گیا ہے۔ زلزلے کے دو سال بعد بھی متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی حالت اچھی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی نیلم کو جانے والی سڑک کی حالت کچھ ایسی ہے۔ آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے باعث یہ سڑک سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی اور اس کا بیشتر حصہ تودے گرنے کے باعث با لکل تباہ ہوکر رہ گیا تھا۔ اس کو قابل استعمال بنانے کے لیےکوئی ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگا تھا۔ اس سڑک کو نئے سرے سے تعمیر نہیں کیا گیا البتہ اس سڑک سے ملبہ ہٹانے کے لیے چند بلڈوزرز کام کرتے رہے ہیں۔ اس سڑ ک پر کام کرنے والے بلڈوزر کے ڈرائیور ضیافت کا کہنا ہے کہ’ ہمارا کام سڑک کو صاف رکھنا ہے تاکہ ٹریفک میں خلل نہ پڑے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ بارش کے دوران تودے گرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سڑک بند ہوجاتی ہیں لیکن ہم فوری طور پر ملبہ ہٹا کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کرتے ہیں‘۔ ضیافت نے کہا کہ زلزلے کے باعث زمین جگہ چھوڑ چکی ہے اور یہ کمزور ہوگئی ہے جس کی وجہ سے معمولی بارش میں بھی تودے گرنے لگتے ہیں۔
وادی نیلم کو مظفرآباد سے ملانے والی اس مرکزی سڑک کے ساتھ منسلک سڑکوں پر بیسیوں دیہات انحصار کرتے ہیں اور ان میں پنجکوٹ بھی شامل ہے۔پنجکوٹ کے نذیر چوہدری کا کہنا ہے کہ ’ان کے گاؤں کو جانے والی رابط سڑک کی صورت حال انتہائی خراب ہے‘۔ ضیافت کا کہنا تھا کہ ’ زلزلے سے پہلے ان کے گاؤں تک بس کے ذریعے ایک گھنٹے کا سفر تھا لیکن زلزلے کے بعد سڑک کی خراب حالت کے باعث یہ سفر چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے اور کرایوں میں بھی اضافہ ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ساتھ ہی یہ کہ لوگ تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کررہے ہیں اور ان کو تعمیراتی سامان پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ اس کے نقل و حمل کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی خستہ حالی کے باعث مریض کو بر وقت ہسپتال نہیں پہنچایا جاسکتا ہے اور بارش کے دوران سڑک بند ہوجاتی ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہوجاتے ہیں‘۔ کرامت حسین کا’ جو کئی برسوں سے وادی نیلم کی سڑک پر مسافر بس چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گاڑی آگے چلتی ہے تو پیچھے سے ٹائر سے دیوار کھسک جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں سڑک کی خراب حالت کے باعث مسافر بس کا حادثہ ہوا جس کی وجہ سے تیس لوگ ہلاک ہو گئے
کرامت حسین کا کہنا پبلک سروس کی گاڑیوں میں نئے چار ٹائیر اڑتالیس ہزار میں آتے ہیں لیکن یہ ایک ہفتے میں ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوف کے باعث کم تعداد میں لوگ بس پر سفر کرتے ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے کے تعمیر نو کے وزیر کرنل ریٹائرڈ راجہ نسیم خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی ساڑھے پانچ سو کلومیڑ پر مشتمل تمام بڑی سڑکوں کو بین الااقوامی معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا اور اس کے لیے عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور زلزلے سے متعلق تعمیر نو اور بحالی کا ادارہ رقم فراہم کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دو ماہ میں کاغذی کام مکمل ہوجائےگا اور اگلے سال مارچ میں ان سڑکوں پر کام کا باقاعدہ آغاز ہوجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی سڑکوں کے لیے مختص رقم میں سے جو رقم بچ جائے گی اس کو چھوٹی اور رابطہ سڑکیں تعمیر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور حکومت بھی اپنے بجٹ سے رقم خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ’ مجھے امید ہے اگلے دو تین سالوں میں سڑکوں کی تعمیر نو کا کام مکمل ہوجائےگا‘۔ حکام کے دعویٰ اپنی جگہ لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ جس رفتار سے تعمیر نو کا عمل شروع ہوا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس کو مکمل ہونے میں برسوں لگیں گے۔ |
اسی بارے میں ہولناک راتیں، لوٹ مار، امداد11 October, 2005 | پاکستان ’دو دن سے لاشیں دفن کررہے ہیں‘10 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان زلزلے سے تباہی کا آنکھوں دیکھا حال08 October, 2005 | پاکستان زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں10 December, 2005 | پاکستان پچاس ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے28 December, 2004 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان زلزلے کےدو سال بعد امدادی کام جاری04 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||