زلزلے کےدو سال بعد امدادی کام جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کو دو سال مکمل ہونے پر متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کی سرگرمیاں جاری ہیں۔زلزلے سے بحالی اور تعمیر کے ادارے، ایرا کے مطابق زلزلے میں منہدم ہونے والے مکانات میں سے تقریباًً نصف دوبارہ بن چکے ہیں، چھ لاکھ لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے پیشہ ور تربیت فراہم کی جا چکی ہے، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور بے زمین اور بے سہارا لوگوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اس سب کے باوجود چھ ہزار سے زائد لوگ اب بھی خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں دو برس قبل آنے والے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر کی دوسری سالانہ جائزہ کانفرنس میں جمعرات کے روز بتایا گیا کہ زلزلے کے بعد خیموں میں زندگی بسر کرنے والےساڑھے تین لاکھ لوگوں کی تعداد ، پچھلے سال پینتیس ہزار رہ گئی اور ساڑھے چھ ہزار لوگ اب بھی گھروں کی عدم دستیابی کے باعث خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، زلزلے سے بحالی اور تعمیر کے ادارے، ایرا کے نائب سربراہ لیفٹینٹ جنرل ندیم احمد کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ بے گھر لوگ بھی خیموں سے اپنے گھروں کو منتقل ہو جائیں گے۔ اسلام آباد کے جناح کنونشن ہال میں منعقدہ اس تقریب کی صدارت صدر مملکت نے کی جبکہ غیر ملکی مندوبین سمیت، زلزلے کے دوران امداد دینے والے ممالک اور اداروں کے سفیر اور اعلی حکام بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ ایرا کے ڈپٹی چئرمین لیفٹینٹ جنرل ندیم احمد نے کانفرنس کو اپنے ادارے کی دو سالہ کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ان کے ادارے کو پانچ لاکھ اکہتر ہزار گھر بنانے کا ہدف دیا گیا تھا جس میں سے دو لاکھ دس ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی زیر تعمیر ہیں۔ صرف گیارہ ہزار گھر ایسے ہیں جنکے لیے مناسب جگہ نہ ہونے کے باعث ان کی تعمیر ابھی شروع نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ جن متاثرہ مکانوں کی جگہ یہ زلزلہ پروف گھر بنائے گئے ہیں ان میں سے بیشتر کچے مکانات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایرا اب تک سینتالیس ارب روپے دیہی علاقوں میں مکانات کی تعمیر پر خرچ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ تین ارب روپے ایسے بارہ ہزار خاندانوں کو متبادل زمین خریدنے کے لیے دیے گئے ہیں جنکی زمین زلزلے سے ہونے والی لینڈ سلائڈ کی نظر ہوگئی تھی۔ زلزلے سے معذور، یتیم، بیوہ اور بے سہارا ہو جانے والوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے چوہتر کروڑ روپے سے مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ چھ لاکھ افراد کو مختلف پیشوں میں تربیت فراہم کر کے روز گار کمانے کے قابل بنایا گیا اور زراعت کے جدید طریقوں کو نافذ کرنے کے لیے متعدد پراجیکٹس شروع کیے گئے جن کے باعث متاثرہ علاقوں کی قابل کاشت زمین پر اس وقت فصلیں کھڑی ہیں۔ ایسے چھبیس ہزار خاندانوں کو جن کی کفالت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا ایرا نے چھ ماہ سے ایک سال تک تین ہزار روپے دیے اور اس منصوبے پر پانچ ارب روپے صرف کیے گئے۔ جنرل ندیم کے مطابق ایرا کو متاثرہ علاقوں میں پندرہ سو ستر تعلیمی ادارے تعمیر کرنے کا ہدف ملا تھا جس میں سے اب تک پچانوے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ چھ سو بائیس پر کام جاری ہے۔ صحت کے تین سے میں سے نو منصوبے مکمل ہوئے ہیں جبکہ پانی کی چار ہزار میں سے تقریباً آٹھ سو سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے صدارتی خطاب میں ایرا کے نائب سربراہ کی جانب سے دو سالہ کارکردگی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی اور اتنی جلدی کامیابی اور بحالی تو مشرق بعید میں تین سال قبل سونامی سے ہونے والی تباہی کے بعد بھی بحالی کے اداروں کو حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا اس موقع پر وہ ان لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بھی اس کامیابی کو دیکھیں جو اس وقت مایوسی پھیلانے میں مصروف تھے۔ صدر مشرف نے کہا کہ یہ مایوس ذہن لوگ اس وقت ٹیلی وژن پر آکر کہ رہے تھے کہ لوگ مر رہے ہیں اور فوج کچھ نہیں کر رہی۔ اور لوگ بھوک، سردی اور بیماری سے مر جائیں گے۔
جنرل مشرف نے کہا کہ ان مایوسی پھیلانے والوں نے بھی دیکھا کہ بھوک، سردی اور بیماری سے کوئی نہیں مرا۔ بلکہ زخموں سے ہلاک ہونے والوں کی شرح بھی باقی جگہوں پر ہونے والے اس نوعیت کے سانحات کے مقابلے میں خاصی کم رہی ہے۔ صدر مشرف نے اس موقع پر پاکستان کو امداد دینے والے ان اسی ممالک کے مندوبین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے زلزلے کے فوراً بعد ہونے والی رقم دہندگان کی کانفرنس میں شرکت کی تھی اور ضرورت سے کہیں زیادہ رقوم کا نہ صرف وعدہ کیا بلکہ اس پر صد فیصد عمل بھی کر کے دکھایا۔ صدر نے پاکستانی قوم، مسلح افواج اور بالخصوص انجینرنگ کور کے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے نامساعد حالات میں تعمیر نو کے کام کوممکن کر دکھایا۔ صدر مشرف نے کہا کہ زلزلہ متاثرین کو کیش رقوم دینے کا فیصلہ انکا اپنا تھا اور انہیں اس پر فخر ہے کیونکہ ہر متاثرہ فرد کو ملنے والے ان پیسوں نے زلزلے کے ابتدائی دنوں میں ان لوگوں کی بہت مدد کی۔ صدر مشرف نے سلائیڈز کی مدد سے دکھائے گئے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر شدہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بہت تعریف کی اور انہیں باقی ملک کے لیے مثال قرار دیا۔ تاہم صدر مشرف نے حکومتی اداروں پر زور دیا کہ ان اداروں کو چلانے کے لیے لوگوں کو تربیت دی جائے ورنہ غیر ملکی امداد سے بننے والے یہ ادارے ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ | اسی بارے میں ’دو دن سے لاشیں دفن کررہے ہیں‘10 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان زلزلے سے تباہی کا آنکھوں دیکھا حال08 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین: صدر مشرف کا وعدہ09 April, 2006 | پاکستان ایک لاکھ متاثرین واپس،57 کیمپ بند08 May, 2006 | پاکستان امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی21 September, 2006 | پاکستان متاثرین شکایت کی عرضی دیں: ایرا07 October, 2006 | پاکستان زلزلہ: امدادی چیک ملے، پیسے نہیں15 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||