وادیِ نیلم میں ہڑتال اور مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے وادی نیلم میں مطالبات منوانے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پیر کو مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ وادی نیلم میں مقامی صحافیوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں پر مشتمل اتحاد عوامی محاذ کی اپیل پر وادی نیلم کے اکثرعلاقوں میں دوکانیں بند رہیں جبکہ کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے جن میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نےاپنے مطالبات کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی۔ مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وادی نیلم کی سڑک کی تعمیر نو کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے اور سڑک کو کابینہ کے فیصلے کی مطابق تعمیر کیا جائے اور اس کی چوڑائی چوبیس فٹ ہو۔ آ ٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے زلزلے میں مظفرآباد کو وادی نیلم سے ملانے والی اس سڑک کا بیشتر حصہ تودوں کے باعث بالکل تباہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس سڑک کو قابل استعمال تو بنایا گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ دوبارہ بنایا گیا۔ زلزلے کے ڈھائی سال بعد بھی اس سڑک کی حالت ناگفتہ بہ ہے جس کی وجہ سے اس سڑک پر کئی حادثات بھی پیش آئے ہیں اور لوگوں کو آمدو رفت میں شدید مشکلات ہیں۔ مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ وادی نیلم کے تمام علاقوں کو زمینی ٹیلفیون کی سہولت کے ساتھ ساتھ موبائل ٹیلیفون کی سروس بھی فراہم کی جائے۔ فی الوقت وادی نیلم میں صرف عام ٹیلی فون کی سہولت محمدود پیمانے پر ہے۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ انہیں صحت اور تعلیم کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔ وادی نیلم کے منتخب رکن اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما میاں عبدالوحید نے کہا کہ ’دنیا چاند پر پہنچ گئی لیکن وادی نیلم ایسا خطہ ہے جہاں ہم لوگ اب بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تووسیع پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔
کشمیر کے اس علاقے کے تعمیر نو کے وزیر کرنل ریٹائرڈ نسیم تسلیم کرتے ہیں کہ وادی نیلم کے عوام کے مطالبات جائز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی نیلم کی سڑک پر کام جلد ہی شروع ہوجائے گا جبکہ ان کے دیگر مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ وادی نیلم کو جون دو ہزار پانچ میں مظفر آباد سے الگ کرکے نیا ضلع بنایا گیا تھا اور اس علاقے کی آبادی کوئی ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں ایک نششت ہے۔ وادی نیلم اس اعتبار سے انتہائی حساس اور اہم ہے کہ اس سارے ضلع کی سرحدیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران لائن آف کنڑول پر دونوں ملکوں کی افواج کی گولہ باری کے تبادلے کے نیتجے میں یہ خط سب سے زیادہ متاثرہ ہوا تھا اور سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ |
اسی بارے میں وادی نیلم: حادثے میں 7 ہلاک 14 September, 2006 | پاکستان وادی نیلم میں، امدادی کارکن کی ڈائری14 March, 2006 | پاکستان نیلم وادی کے لوگ ناراض ہیں 22 November, 2005 | پاکستان وادی نیلم میں خوراک کی قِلّت20 November, 2005 | پاکستان نیلم، جہلم تک رسائی نہیں ہوئی13 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||