BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 22:33 GMT 03:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیری قیادت ہی سنجیدہ نہیں‘

کشمیریوں کا احتجاجی مظاہرہ
ہوئےعام آدمی اس بارے ایک تذبذب کا شکار ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کچھ لوگوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ مسئلہ سلجھنے نہ پائے
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں منگل روز یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا البتہ کشمیر میں عمومی طور پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بعض سیاست دانوں کا مفاد اسی میں ہے کہ تنازعہ کشمیر کبھی حل نہ ہو۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بڑی سیاسی جماعتوں کا روایتی موقف ہمیشہ سے یہ نعرہ ہے کہ کشمیر بنےگا پاکستان اور کئی لوگ اس موقف کے حامی ہیں۔

لیکن کشمیر کے اس علاقے میں ایسی جماعتیں بھی ہیں جو خود مختار کشمیر کی حامی ہیں اور وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں سے علیحدگی کی خواہاں ہیں۔

ان مخالفانہ اور متضاد سوچوں کے ہوتے ہوئےعام آدمی اس بارے ایک تذبذب کا شکار ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کچھ لوگوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ مسئلہ سلجھنے نہ پائے۔

شہر مظفرآباد کے میکن پرویز بانڈرے پاکستانی اور کشمیری قیادت سے مایوس ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری قیادت مسئلہ کشمیر کے حل میں مخلص ہی نہیں ہیں اور ساٹھ سال سے ہمارا کشمیر بِک رہا ہے۔ کبھی ایک لیڈر کے ہاتھوں اور کبھی دوسرے کے‘۔ انہوں نے کہا یہ یوم یکجہتی کشمیر صرف ایک دکھاوا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سن انیس سو اٹھاسی میں شدت پسندی کے آغاز کے بعد نوے کی دہائی کے اوائل سے پاکستان کی حکومت کی سرپرستی میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کی روایت ہے۔ تاہم اس دن کا کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔

بانڈے نے کہا کہ ’ان ڈیڑہ لاکھ نوجوانوں کا خون فروخت کیاگیا جھنوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی جان دی۔‘

انہوں نے کہا کہ’قیادت مخلص نہیں ہے اور ان کا پیٹ ہی نہیں بھرتا اور وہ نہیں چاہتے مسئلہ کشمیر حل ہو‘۔

انہوں نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے آزادی پسند رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ کشمیری قیادت اور ان کے بچے اسلام آباد، امریکہ اور لندن میں بیٹھے ہیں اور ان رہنماؤں نے اسلام آباد، لندن اور امریکہ میں گھر بنائے ہیں‘۔

انہوں نے کہ’ آئندہ کی نسلیں ان کو معاف نہیں کریں گی اور حریت کانفرنس کے لوگ بھی اپنی قوم اور تحریک آزادی کے ساتھ مخلص نہیں ہیں‘۔

ایک طالب علم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ’ پاکستان اور کشمیری قیادت نے کشمیر کی جدو جہد آزادی کو تجارت بنایا ہے اور اس تحریک کے ساتھ انکے ذاتی مفادات جڑے ہوئے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ’ خاص طور لائن آف کنڑول کے دونوں جانب کی قیادت اپنے مفادات کی خاطر معصوم لوگوں کے خون کا سودا کررہی ہے اور ان رہنماؤں نے کشمیر کے نام پر بیرون ممالک دوروں پر اب تک اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں‘۔

انہوں نے کہ’ عام لوگ ظلم اور زیادتیوں کا شکار ہیں لیکن ہمارے نام نہاد رہنما کشمیر کے نام پر عیش و عشرت کررہے ہیں‘۔

مظفرآباد کے رہائشی خورشید اکرم میر کے خیالات بھی کوئی مختلف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت نے ’کشمیری جدوجہد‘ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ورنہ حقیقت میں ان کو مسئلہ کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ رہنما اپنے بچوں کی شادیوں پر لاکھوں پر روپے خرچ کرتے ہیں لیکن لائن آف کنڑول کے دوسری جانب ایسے بھی خاندان ہیں جو بے بسی اور مجبوری کی زندگی بسر کررہے ہیں‘۔

ایسی صورت حال میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام آدمی مجموعی طور پر اس بے یقینی کا شکار ہے کہ مسئلہ کا کوئی ایسا حل نکل آئے گا جو سب فریقوں کے لئے قابل قبول ہو یا پھر بے یقینی کی وہی فضا قائم رہے گی جو پچھلے ساٹھ برسوں سے کشمیریوں کا مقدر بنی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
اس بار بھارت پر الزام نہیں
16 January, 2007 | پاکستان
’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘
19 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد